انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 233 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 233

انوار العلوم جلد ۱۶ بعض اہم اور ضروری امور میں سینے پر ہاتھ رکھے جاتے ہیں، وہی سجدہ اور وہی رکوع دُہرایا جاتا ہے۔نماز بالکل اسی طرح دن میں پانچ بارڈ ہرائی جاتی ہے جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لے کر اب تک چلی آتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر اب تک ہمارے باپ دادا، ان کے باپ دادا اور پھر ان کے باپ دادا بالکل اسی طرح دُہراتے چلے آئے ہیں۔اور اگر دُہرا نا عیب ہے تو اسے کیوں دُہرایا جاتا ہے۔اور وہی نماز جو کل پڑھی تھی۔آج دُہرائی جاتی ہے۔وہی روٹی کھانے اور پانی پینے کا عمل ہر روز دُہرایا جاتا ہے۔وہی دن جو کل چڑھا تھا آج پھر چڑھا ہے۔اور وہی رات ہر روز آتی ہے۔اور کبھی کوئی نہیں کہتا کہ دن دوبارہ نہ چڑھے اور رات دوبارہ نہ آئے۔کیونکہ کل بھی دن تھا اور رات تھی۔اس لئے آج دن ہو اور نہ رات۔ذرا غور کرو کہ اگر انسان کی نیند اڑ جائے تو اسے کتنی تکلیف ہوتی ہے۔میرا اپنا گزشتہ شب کا تجربہ ہے کہ مجھے نیند نہ آتی تھی اور صبح تقریر کرنی تھی۔میں نے ڈرام یا نصف ڈرام برومائیڈ پی لی۔مجھے یہ بھی علم نہ تھا کہ اتنی خوراک درست بھی ہے یا زہریلی ہو جاتی ہے۔مگر چونکہ نیند نہ آ رہی تھی میں نے پی لی۔کیونکہ میں جانتا تھا کہ اگر رات کو نیند نہ آئی تو صبح نہ کوئی کام کر سکوں گا اور نہ تقریر کر سکوں گا۔تو کوئی شخص یہ نہیں کہتا کہ میں کل بھی سویا رہا ہوں آج نہ سوؤں۔بلکہ شدید خواہش رکھتا ہے کہ وہی نیند جو کل آئی تھی اور جو روز آتی ہے ہر روز آتی رہے۔پس کسی بات کا دُہرایا جانا قابلِ اعتراض بات نہیں بلکہ مفید چیزوں کا دُہرایا جانا ضروری اور مفید ہوتا ہے۔قرآن کریم میں مومنوں کے متعلق آتا ہے کہ كُلَّمَا رُزِقُوا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِزْقًا قَالُوْا هَذَا الَّذِي رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ وَ أَتُو بِهِ مُتَشَابِهَا ے جس کا مطلب یہ ہے کہ جنت میں وہی رزق دُہرائے جائیں گے۔پس محض دُہرانا کوئی قابلِ اعتراض بات نہیں ہر روز کئی باتیں دہرائی جاتی ہیں اور انسان چاہتا ہے کہ وہ دُہرائی جائیں۔ان کا نہ دُہرایا جانا اسے کبھی پسند نہیں ہوتا۔پس یہ کہنا غلطی ہے کہ یہی بات ہمیشہ دُہرائی جاتی ہے۔جماعت کے دوستوں کو اس طرف ضرور توجہ کرنی چاہئے کہ سلسلہ کے اخبارات کو خرید میں انہیں پڑھیں اور ان سے فائدہ اُٹھا ئیں۔میں تو جہاں تک ہو سکے پڑھتا ہوں اور بسا اوقات فائدہ بھی اُٹھاتا ہوں۔میں نے تو کبھی کوئی ایسا مضمون نہیں پڑھا جو دوبارہ شائع ہوا ہو لیکن اگر کوئی مضمون دوبارہ بھی شائع ہوا ہو تو بہر حال اس کا اسلوب اور طرز بیان جُدا ہوتا ہے اور اس چیز سے بھی فائدہ ہوتا ہے بعض عام باتیں بھی بہت