انوارالعلوم (جلد 16) — Page 219
انوار العلوم جلد ۱۶ افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ ۱۹۴۱ء کھانا کھاتے ہوئے یاد آ جائے تو اس وقت نیت کر کے کہے۔بِسْمِ اللهِ فِى اَوَّلِهِ وَاخِرِه یعنی پہلے بھول گیا تھا۔ایک بِسمِ اللهِ تو بھولنے کی کہتا ہوں اور دوسری اس کام کے متعلق جو کر رہا ہوں۔تو آپ نے فرمایا کہ دُہری بسم اللہ کہے۔پس ہمارے رب نے ہمارے لئے نیت کی درستی اور اصلاح کا موقع رکھ دیا ہے اور جب تک انسان مر نہیں جاتا ہر مقام سے پیچھے ہٹ سکتا ہے۔حتی کہ اگر وہ شیطان کے دوش بدوش کھڑا ہو گیا ہو اور وہاں سے لوٹنا چاہے تو بھی لوٹ سکتا ہے۔پس میں تمام دوستوں کو جو یہاں جمع ہوئے ہیں خواہ وہ واعظ ہوں یا سامع ، نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اپنی نیتوں کو درست کر کے خدا تعالیٰ کے آگے جھک جائیں اور نہایت ہی دردمند دل کے ساتھ عرض کریں کہ اے ہمارے رب! ہم اس لئے یہاں جمع ہوئے ہیں اگر پہلے نہیں تو اب اپنی نیت کو درست کر کے اس لئے جمع ہوئے ہیں کہ تا تیرا نام دنیا میں بلند ہو، تیری عظمت اور جلال دنیا میں ظاہر ہو، تیرا دین دنیا میں پھیلے، تیری حقانیت باطل پر غالب آئے ، تیرے بھیجے ہوئے سردار انبیاء محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت دنیا میں ظاہر ہو، آپ کی لائی ہوئی شریعت دنیا میں پھیلے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قرآن اور احادیث کی جو تشریح و تفصیل بیان فرمائی ہے لوگ اسے سمجھیں ، اس پر ایمان لائیں اور اس پر عمل کریں۔تا اے ہمارے رب ! تیرے بُھولے بھٹکے بندوں کو ہم تیرے آستانہ پر لاسکیں۔سب سے پہلے اپنے نفس کو ، پھر اپنے اہل وعیال کو ، پھر دوستوں کو، پھر ساری دنیا کے لوگوں کو جو صرف نام کے بندے ہیں تیرے حقیقی بندے بنا سکیں۔جن کے دل سیاہ ہیں ان کے دل سفید کر دے تا کہ قیامت کے روز ان کے چہرے کالے نہ ہوں بلکہ بے عیب اور روشن ہوں۔تو ہم سے خوش ہو جائے کہ ہم تیرے گمراہ بندوں کو تیرے آستانہ پر لائے اور ہم تجھ سے خوش ہوں کہ تو ہم سے راضی ہو گیا۔پس اب بھی یہ نیت کی جاسکتی ہے۔اب بھی اس نیت سے اپنے تمام کاموں کو زیادہ سے زیادہ مبارک اور مفید بنا سکتے ہیں۔میں اس مختصر تمہید کے بعد دعا کرنا چاہتا ہوں کیونکہ آج جمعہ کا دن ہے جلسہ کا ضروری پروگرام بھی وقت پر ختم کرنا ہے اور جمعہ بھی وقت پر ادا کرنا ہے۔میں دوستوں سے درخواست کرتا ہوں کہ میرے ساتھ مل کر اسی طرح جس طرح میں نے ابھی کہا ہے دعا کریں بے شک اپنے لئے