انوارالعلوم (جلد 16) — Page 190
اللہ تعالیٰ ، خاتم النبیین اور امام وقت۔انوار العلوم جلد ۱۶ آپ کے درجہ کو ۵۳ یعنی تعریف نبوت کے بارہ میں آپ کے اجتہاد کو بدلا گیا نہ یہ کہ جس حقیقت کا اپنے اندر پایا جانا بتاتے تھے اس میں کوئی تبدیلی ہوئی۔میں آپ کی خدمت میں عرض کر دیتا ہوں کہ نہ یہ میرا عقیدہ ہے اور نہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایسا لکھا ہے کہ آپ کو پہلے اللہ تعالیٰ نے جزوی نبی قرار دیا بعد میں نبی ۵۴ اسی سلسلہ میں مولوی محمد علی صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ " کیا جناب میاں صاحب نے یا ان کے مریدین نے کبھی یہ غور کیا کہ ۱۹۰۱ ء سے پہلے کی تحریروں کو منسوخ کہنے کے کیا معنے ہیں؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ ۱۸۹۱ء میں اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود کو یہ کہا تھا کہ آپ محدث ہیں نبی نہیں اور ۱۹۰۱ء میں کہا کہ آپ نبی ہیں محدث نہیں اس لئے ۱۸۹۱ ء میں جو کچھ کہا تھا وہ منسوخ ہو گیا مگر محدث ہیں نبی نہیں نبی ہیں محدث نہیں دونوں متضاد باتیں ہیں ان میں سے کچی صرف ایک ہی ہو سکتی ہے۔۵۵ اس الزام کا جواب اوپر گزر چکا ہے نہ میرا یہ عقیدہ ہے اور نہ میں نے یہ کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ۱۸۹۱ء میں یہ کہا کہ آپ محدث ہیں نبی نہیں اور ۱۹۰۱ء میں کہا کہ آپ نبی ہیں محدث نہیں اور نہ یہ استدلال تعریف نبوت کے بدلنے کے عقیدہ سے ہو سکتا ہے۔یہ محض مولوی صاحب کی زبردستی ہے اور چونکہ اب وہ اس عقیدہ سے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت کے بارہ میں وہ پہلے رکھتے تھے پھر گئے ہیں اس لئے اب انہیں یہ باتیں سو جھنے لگی ہیں۔میں تو بارہا لکھ چکا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ آپ کو شروع میں فرمایا تھا وہی آخر میں فرمایا جس امر میں تبدیلی ہوئی ہے وہ صرف آپ کا اجتہاد دربارہ تعریف نبوت ہے اور بس۔اگر الہام کے متعلق مولوی صاحب کا دعوی سچا ہے تو وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وہ الہام پیش کریں جس میں یہ لکھا ہوا ہے کہ آپ محدث ہیں نبی نہیں مگر وہ بھی ایسا الہام پیش نہیں کر سکتے۔وہ جو کچھ پیش کر سکتے ہیں وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اجتہاد دربارہ نبوت ہے اس سے زیادہ وہ کچھ پیش نہیں کر سکتے۔مولوی صاحب کا یہ فقرہ تو نہایت مضحکہ خیز ہے کہ آپ نبی ہیں محدث نہیں کیونکہ ہر نبی محدث ہوتا ہے اور بغیر محدث ہونے کے یعنی خدا تعالیٰ سے الہام پانے کے کوئی شخص نبی ہو ہی کیونکر سکتا ہے۔میں مولوی صاحب کے ان استدلالات کے مقابل پر مولوی صاحب کو پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ان ارشادات کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔