انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 164 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 164

انوار العلوم جلد ۱۶ سے ڈرو اور حد سے مت بڑھو۔'' اللہ تعالی ، خاتم النبیین اور امام وقت۔میں اس حوالہ کو نقل کر کے اس پر کچھ لکھنے ہی لگا تھا کہ مجھے خیال حضرت مسیح موعود علیہ السلام آیا کہ مولوی محمد علی صاحب پر حوالوں میں اعتبار کرناخت خطر ناک ہوتا ہے۔خصوصاً جب وہ نقطے ڈالیں تو سمجھ لینا چاہئے کے ایک حوالہ میں تحریف کہ ضرور کوئی ضروری حصہ اس جگہ متروک ہے یا اس متروک حصہ سے مفہوم کو کوئی دوسرا رنگ ضرور مل جاتا ہے۔چنانچہ اس خیال کے آتے ہی میں نے سراج منیر نکال کر اصل عبارت دیکھی تو وہ یوں تھی۔بار بار کہتا ہوں کہ یہ الفاظ رسول اور مُرسل اور نبی کے میرے الہام میں میری نسبت خدا تعالیٰ کی طرف سے بے شک ہیں لیکن اپنے حقیقی معنوں پر محمول نہیں ہیں۔اور جیسے یہ محمول نہیں ایسے ہی وہ نبی کر کے پکارنا جو حدیثوں میں مسیح موعود کے لئے آیا ہے وہ بھی اپنے حقیقی معنوں پر اطلاق نہیں پاتا۔یہ وہ علم ہے جو خدا نے مجھے دیا ہے جس نے سمجھنا ہو سمجھ لے۔میرے پر یہی کھولا گیا ہے کہ حقیقی نبوت کے دروازے خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بکلی بند ہیں۔اب نہ کوئی جدید نبی حقیقی معنوں کے رو سے آ سکتا ہے اور نہ کوئی قدیم نبی۔مگر ہمارے ظالم مخالف ختم نبوت کے دروازوں کو پورے طور پر بند نہیں سمجھتے بلکہ ان کے نزدیک مسیح اسرائیلی نبی طہ کے واپس آنے کے لئے ابھی ایک کھڑ کی کھلی ہے۔پس جب قرآن کے بعد بھی ایک حقیقی نبی آ گیا اور وحی نبوت کا سلسلہ شروع ہوا تو کہو کہ ختم نبوت کیونکر اور کیسے ہوا۔کیا نبی کی وحی وحی نبوت کہلائے گی یا کچھ اور۔کیا یہ عقیدہ ہے کہ تمہارا فرضی مسیح وحی سے بکلی بے نصیب ہو کر آئے گا۔تو بہ کرو ،، اور خدا سے ڈرو اور حد سے مت بڑھو۔“ اس عبارت کے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مولوی صاحب نے اپنی عبارت سے پہلے کے فقرات چھوڑ کر یہ مفہوم پیدا کرنے کی کوشش کی ہے کہ گویا حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہ فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے مجھے یہ بتایا ہے کہ حدیث میں جو لفظ نبی کا آیا ہے وہ استعارہ ہے۔حالانکہ اصل عبارت سے ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کا دیا ہوا علم صرف یہ ہے کہ حقیقی نبوت کا دروازہ