انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 165 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 165

اللہ تعالیٰ ، خاتم النبیین اور امام وقت۔انوار العلوم جلد ۱۶ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد بند ہے اور اس مفہوم کو چسپاں کر کے آپ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ حدیثوں میں بھی نبی کے لفظ کے یہی معنی ہیں۔اور یہ ہرگز مراد نہیں کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو یہ بتایا ہے کہ حدیثوں میں اس لفظ کا فلاں مفہوم نہیں فلاں ہے۔چنانچہ اگلے فقرہ سے اس کی تشریح ہو جاتی ہے۔اور وہ فقرہ یہ ہے۔”میرے پر یہی کھولا گیا ہے کہ حقیقی نبوت کے دروازے خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بکنی بند ہیں۔“ اس فقرہ اور اس کے بعد کے ایک دو فقروں کو حذف کر کے نیز عبارت کے شروع کے فقروں کو حذف کر کے جناب مولوی صاحب نے یہ اثر پیدا کرنا چاہا ہے کہ گویا خاص طور پر الہام میں اس حدیث کی تشریح اللہ تعالیٰ نے آپ کو بتائی ہے اور فرمایا ہے کہ اس حدیث میں لفظ نبی سے مراد نبی نہیں ہے۔چنانچہ اس کے لئے آپ نے یہاں تک ہوشیاری کی ہے کہ فقرہ کو درمیان سے کاٹا ہے۔اصل فقرہ تو یہ تھا کہ ” اور جیسے یہ محمول نہیں ایسے ہی وہ نبی کر کے پکارنا الخ مگر آپ نے نشان کردہ نجز وفقرہ کا اُڑا دیا تا کوئی یہ خیال کر کے کہ فقرہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے بھی کوئی اسی سے ملتا ہوا مضمون ہے میں اس کو بھی نکال کر دیکھ لوں ساری عبارت نہ دیکھ لے۔اسی طرح مولوی صاحب نے عبارت میں سے ایک یہ فقرہ بھی حذف کر دیا ہے کہ ” مگر ہمارے ظالم مخالف ختم نبوت کے دروازوں کو پورے طور پر بند نہیں سمجھتے بلکہ ان کے نزدیک مسیح اسرائیلی نبی کے واپس آنے کے لئے ابھی ایک کھڑکی کھلی ہے۔پس اس فقرہ کے حذف کرنے سے ان کی غرض یہ ہے کہ انہوں نے نقطوں کے بعد جو فقرہ نقل کیا ہے یعنی ” جب قرآن کے بعد بھی ایک حقیقی نبی آ گیا اور وحی نبوت کا سلسلہ شروع ہوا تو کہو کہ ختم نبوت کیونکر اور کیسے ہوا۔کیا نبی کی وحی وحی نبوت کہلائے گی یا کچھ اور اس سے لوگوں کا ذہن اس طرف نہ منتقل ہو کہ اس جگہ ایک سابق نبی حضرت عیسی کا ذکر ہے جو نبوت کے حصول میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آزاد تھے اور جن کی وحی قرآن کریم کی وحی کے تابع نہ تھی۔اس کا مزید ثبوت کہ مولوی صاحب نے دیدہ دانستہ اس فقرہ کو حذف کیا ہے اور ان کا منشاء یہ تھا کہ اسرائیلی مسیح کا ذکر اس جگہ پر نہ آئے اور لوگ یہی خیال کریں کہ یہاں محمدی مسیح کی نبوت کی بحث ہے۔کسی سابق نبی کی نبوت کا ذکر نہیں یہ ہے کہ ان کے نقل کردہ فقرہ کے بعد ایک مختصر فقرہ پھر حضرت مسیح ناصری کی طرف اشارہ کرتا تھا۔انہوں نے درمیان سے اس کو بھی حذف کر دیا ہے اور وہ فقرہ یہ ہے۔کیا یہ عقیدہ ہے کہ تمہارا فرضی مسیح وحی سے بکنی بے نصیب ہو کر آئے گا۔ہاں اس کے بعد کا فقرہ درج کر دیا ہے کہ ” تو بہ کرو اور خدا سے