انوارالعلوم (جلد 16) — Page xvi
۱۴ انوار العلوم جلد ۱۶ تعارف کتب طرف سرمایہ داری اور اشتمالیت و اشتراکیت کے نظام ہائے زندگی آپس میں شدید طور پر متصادم ہو رہے تھے اور دُنیا کا معاشرہ بے شمار معاشی اور اقتصادی مصائب میں گھر چکا تھا اور ضرورت تھی کہ کوئی مرد خدا دنیا کی راہنمائی کرے، یہ تھے وہ حالات جن میں حضرت خلیفۃ اسیح الثانی اقوام عالم کی قیادت کے لئے آگے بڑھے اور آپ نے ۲۷ / دسمبر ۱۹۴۲ء کو جلسہ سالا نہ قادیان کے موقع پر ” نظام نو کی تعمیر پر یہ معرکتہ الآرا خطاب فرمایا۔جس میں پہلے تو عہدِ حاضر کی اُن اہم سیاسی تحریکات، جمہوریت، اشتمالیت اور اشتراکیت وغیرہ پر سیر حاصل روشنی ڈالی جو عام طور پر غریبوں کے حقوق کی علمبر دار قرار دی جاتی تھیں اور خصوصاً اشتراکیت کے سات بنیادی نقائص کی نشاندہی کی۔ازاں بعد غرباء کی حالت سدھارنے کے لئے یہودیت ، عیسائیت ، ہندو ازم کی پیش کردہ تدابیر کا جائزہ لیا اور آخر میں اسلام کی بے نظیر تعلیم بیان کر کے اسلامی نقطۂ نگاہ کے مطابق دنیا کے نئے نظام کا نقشہ ایسے دلکش اور مؤثر انداز میں پیش کیا کہ سُننے والے عش عش کر اُٹھے۔اس ضمن میں حضور نے یہ بھی فرمایا کہ قرآن مجید کی عظیم الشان تعلیم کو دنیا میں قائم کرنے کے لئے خدا تعالیٰ کے مامور کے ہاتھوں دسمبر ۱۹۰۵ء میں نظام نو کی بنیاد نظام وصیت کے ذریعہ قادیان میں رکھی گئی۔جس کو مضبوط کرنے اور قریب تر لانے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ۱۹۳۴ ء میں تحریک جدید جیسی عظیم الشان تحریک کا القاء فرمایا گیا۔اس عظیم الشان لیکچر کے آخر میں حضور نے پر شوکت الفاظ میں فرمایا کہ:- وو ” جب وصیت کا نظام مکمل ہو گا تو صرف تبلیغ ہی اس سے نہ ہوگی بلکہ اسلام کے منشاء کے ماتحت ہر فرد بشر کی ضرورت کو اس سے پورا کیا جائے گا اور دُکھ اور تنگی کو دنیا سے مٹا دیا جائے گا انشاء اللہ یتیم بھیک نہ مانگے گا، بیوہ لوگوں کے آگے ہاتھ نہ پھیلائے گی ، بے سامان پریشان نہ پھرے گا کیونکہ وصیت بچوں کی ماں ہوگی ، جوانوں کی باپ ہو گی ، عورتوں کا سہاگ ہوگی اور جبر کے بغیر محبت اور دلی خوشی کے ساتھ بھائی بھائی کی اِس کے ذریعہ سے مدد کرے گا اور اس کا دینا بے بدلہ نہ ہو گا بلکہ ہر دینے والا خدا تعالیٰ سے بہتر بدلہ پائے گا۔نہ امیر گھاٹے میں رہے گا نہ غریب، نہ قوم قوم سے لڑے گی پس اس کا احسان سب دنیا پر وسیع ہوگا۔“