انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 141 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 141

اللہ تعالیٰ ، خاتم النبیین اور امام وقت۔انوار العلوم جلد ۱۶ اور قادیانیت کی بلی" کا لفظ استعمال کر کے بھی دل ٹھنڈا کر لیا مگر یہ امور انسانوں کی نگاہ میں تو مزے دار جواب کہلا سکتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کی درگاہ میں یہ امور ناپسندیدہ ہیں مگر مولوی صاحب کو میں کیا نصیحت کروں کہ اس سے بڑھ کر ان کے پاس نصیحت موجود ہے یعنی وہ قرآن کریم کے مفسر ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت پاچکے ہیں مگر باوجود اس کے کہ وہ جناب مولوی غلام حسن صاحب کو خلیفہ اسی تجویز کر چکے ہیں اور ان کے اخبار ”پیغام صلح ، میں انہیں خلیفۃ امسیح لکھا جاتا رہا ہے۔چنانچہ پیغام صلح ۱۹ ؍ دسمبر ۱۹۱۷ء میں جو ان کی انجمن کے سالانہ جلسہ کا پروگرام چھپا ہے اس میں جناب مولوی غلام حسن صاحب کے مضمون کا یوں اعلان کیا گیا ہے۔حضرت خلیفہ المسیح مولا نا مولوی غلام حسن خان صاحب پشاوری“ آج وہ جناب مولوی صاحب کی نسبت گردن مروڑنے کی پھبتی اُڑاتے ہیں۔اس کا علاج تو اللہ تعالیٰ ہی کر سکتا ہے۔جناب مولوی محمد علی صاحب کو یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ یہ بلی کا محاورہ ان کا پرانا محاورہ ہے۔آج میری ایک تمثیل پر ہی انہیں یہ پھبتی نہیں سوجھی بلکہ اس سے پہلے بھی دوسروں کو بلی بنانے کا شوق وہ پورا کرتے رہے ہیں۔چنانچہ پیغام صلح ۳۰ جولائی ۱۹۴۰ء میں میرے خطبہ سے ایک سال پہلے جناب مولوی محمد علی صاحب کا ایک مضمون شائع ہوا ہے۔جس میں آپ تحریر فرماتے ہیں کہ حکیم عبدالعزیز بار بار خلیفہ صاحب کو مباہلہ کا چیلنج دے رہے ہیں۔”اور ان کے مقابلہ میں خلیفہ صاحب بھیگی بلی بنے بیٹھے ہیں“ کیا میں اس پر کہہ سکتا ہوں کہ ائے اسلام کے پیرو اور مبلغ اسلام بلکہ مفسر قرآن کریم آپ کا یہ فقرہ کس طرح اسلامی اخلاق کا نمونہ پیش کر رہا ہے۔دوسرے کی ایک مثال پر اس قدر غم وغصہ کا اظہار ہے مگر خود یہ حالت ہے کہ اپنے شیر حکیم عبدالعزیز کے سامنے بلی نہیں بلکہ بھیگی بلی بنا کر مجھے بٹھا دیا ہے اور خود اس نظارہ کا لطف اٹھا رہے ہیں۔ناظرین دیکھ چکے ہیں کہ جناب مولوی محمد علی صاحب اور ان مولوی محمد علی صاحب اور کے رفقاء کے نزدیک جماعت احمدیہ کے تمام افراد بھیٹر میں ان کے رفقاء کی گوہر افشانی ہیں۔( جو ایک نجاست خور جانور ہے ) اور بھیڑ میں بھی ایسی کہ وہ عقل و خرد کو بالائے طاق رکھ چکی ہیں اور ان سب کے