انوارالعلوم (جلد 16) — Page 142
انوار العلوم جلد ۱۶ اللہ تعالیٰ ، خاتم النبیین اور امام وقت۔ناکوں میں نکیل پڑی ہوئی ہے اور ان کا امام ایک بلی ہے اور وہ بھی بھیگی ہوئی اور وہ بھیڑ میں تو اپنے امام کے ہاتھ میں نکیلیں دے کر بے بس ہو کر بیٹھی ہوئی ہیں اور امام خود بھیگی بلی بن کر مولوی صاحب کے شیر حکیم عبدالعزیز کے سامنے بے کس ہو کر دی کا بیٹھا ہے گویا یہ ساری کی ساری جماعت جانوروں کی شکل میں جناب مولوی صاحب کے ایک ہی بہادر جرنیل کے آگے اس طرح دیکی بیٹھی ہے کہ اسے تاپ مجال نہیں ہے۔مگر اسی پر بس نہیں مولوی صاحب بقول خود اسلامی تعلیم کے اور بھی کئی نمونے پیش فرماتے ہیں اور خوش کلامی کی مثالیں بہم پہنچاتے ہیں۔چنانچه ۳۰ / جولائی ۱۹۴۰ء کے پرچہ میں میری نسبت تحریر فرماتے ہیں اللهُ اَكْبَرُ یہ کیسا ظالم انسان ہے 3 پھر اور گوہر افشانی ملاحظہ ہو ۱۷ جنوری ۱۹۳۸ء کے پیغام میں تحریر فرماتے ہیں۔دعاؤں کو ہم کیا کریں دعائیں تو حضرت نوح نے بھی اپنے بیٹے کے متعلق بہت کی تھیں، اس فقرہ سے اس قدر کا بھی علم ہو جاتا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعاؤں کی مولوی صاحب کے دل میں ہے۔دعاؤں کو ( یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعاؤں کو ) ہم کیا کریں۔اس جملہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ کسی گہری عقیدت کا اظہار، کس ایمان کا مظاہرہ ہے؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے اس عقیدت کے بعد مجھے تو کسی امید رکھنے کی گنجائش ہی نہیں۔پھر مجھے کیا شکوہ کہ مولوی صاحب نے مجھے ابن نوح قرار دیا ہے اور یہ ایک دفعہ نہیں کہا گیا بلکہ مولوی صاحب کے رفقاء دیر سے اس لفظ کا استعمال کرتے چلے آئے ہیں۔مولوی صاحب اور ان کے رفقاء کے اس خروار میں سے ایک اور لطیف دانہ بھی قابل ملاحظہ ہے۔آپ فرماتے ہیں ”میاں صاحب خوب یاد رکھیں کہ انہوں نے اپنے لئے جو فرضی خلافت تجویز کی ہے اس کی مثال انہیں خلفائے راشدین میں نہیں ملے گی بلکہ اگر ملے گی تو صرف باطنیہ فرقہ میں ملے گی جنہوں نے قتل وغارت اور ہر قسم کے فسق و فجور کو جائز کرنے کے لئے یہ دروازہ کھولا تھا اور آج میاں صاحب یہ کہہ کر کہ مجھ پر سچا اعتراض کرنے والا بھی جہنم میں جائے گا حسن بن صباح کی پیروی کر رہے ہیں، اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ مولوی صاحب ہماری جماعت کو باطنی فرقہ کے مشابہ اور مجھے حسن بن صباح اور قتل وغارت اور فسق و فجور کو جائز کرنے والا قرار دیتے ہیں مگر ان کے نزدیک یہ گالی نہیں ، یہ تنابز بالا نقاب نہیں، یہ اسلام کی پیروی اور اس کے مبلغ ہونے کے خلاف نہیں ،