انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 117 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 117

انوار العلوم جلد ۱۶ احمدبیت دنیا میں اسلامی تعلیم و تمدن۔۔اپنے بچپن کا ایک واقعہ ہمیشہ یاد رہتا ہے میں چھوٹا تھا کہ میں نے اور دوسرے بچوں نے مل کر جہلم سے ایک کشتی منگوائی۔وہ کشتی نیلام ہوئی تھی اور ہمیں سستی مل گئی تھی یوں تو ویسی کشتی اُن دنوں سو ، سوا سو روپیہ میں تیار ہوتی تھی مگر ہمیں صرف سترہ روپیہ میں مل گئی اور چھیں روپے کرایہ لگا۔جب وہ یہاں آ گئی تو جو خریدنے والے تھے ان میں سے کئی باہر چلے گئے اور آخر نگران میں ہی مقرر ہوا۔ہم نے اُس کو ایک زنجیر سے باندھ کر ڈھاب کے کنارے رکھا ہوا تھا۔بعض دفعہ جب ہم وہاں موجود نہ ہوتے تو لڑکوں نے کشتی کھول کر لے جانا اور خوب گودنا اور چھلانگیں لگانا اور چونکہ وہ بے احتیاطی سے استعمال کرتے تھے اس لئے کشتی کے تختے روز بروز ڈھیلے ہوتے چلے گئے۔میں نے اس کے انسداد کے لئے کچھ دوست مقرر کر دیئے اور انہیں کہہ دیا کہ تم نگرانی رکھو اور پھر کسی دن اگر لڑ کے کشتی کو کھول کر پانی میں لے جائیں تو مجھے اطلاع دو۔چنانچہ ایک دن قادیان کے بہت سے لڑکے اکٹھے ہو کر وہاں گئے انہوں نے کشتی کھولی اور خوب گودنا پھاندنا شروع کر دیا۔اس طرح پانی میں کوئی کشتی کو ادھر سے کھینچتا کوئی اُدھر سے، مجھے بھی اطلاع ہوئی میں غصے سے ہاتھ میں بید لئے دوڑتا ہوا وہاں چلا گیا اور وہاں چاروں طرف لڑکے مقرر کر دیئے کہ کسی کو بھاگنے نہیں دینا۔جب لڑکوں نے ہمیں دیکھا تو انہوں نے ادھر اُدھر بھاگنا چاہا مگر چاروں طرف آدمی کھڑے تھے۔آخر وہ اُسی طرف آئے جس طرف میں کھڑا تھا اور کشتی کو کنارے پر لگاتے ہی سب بھاگ کھڑے ہوئے اور تو نکل گئے لیکن ایک قصاب کا لڑکا میں نے پکڑ لیا اور گو وہ مجھ سے بہت مضبوط تھا اور اُس کا جسم بھی ورزشی تھا مگر میں جانتا تھا کہ وہ میرا مقابلہ نہیں کر سکے گا۔کچھ اُس میں فطرت کی اس کمزوری کا بھی دخل تھا کہ میں سمجھتا تھا کہ یہ لوگ ہم پر ہاتھ نہیں اُٹھا سکتے کیونکہ ہم یہاں کے مالک ہیں۔غرض بچپن کی جو نا عقلی ہوتی ہے کہ انسان اپنے رُعب سے بعض دفعہ ناجائز فائدہ اُٹھاتا ہے اس کے مطابق میں نے زور سے ہاتھ اُٹھا کر اُسے مارنا چاہا۔اُس نے پہلے تو اپنا منہ بچانے کے لئے ہاتھ اُٹھایا جس پر مجھے اور زیادہ طیش آیا اور میں نے زیادہ سختی سے اُسے تھپڑ مارنا چاہا مگر ابھی تھپڑ اُسے نہیں مارا گیا تھا کہ اُس نے اپنا منہ میرے سامنے کر دیا اور کہنے لگا لو جی مارلو۔اس پر یکدم میرا ہاتھ نیچے گر گیا اور میں شرمندہ ہوا کہ فتح آخر اس کی ہوئی حالانکہ جسمانی لحاظ سے وہ گو مجھ سے طاقت ور تھا مگر رُعب کے لحاظ سے وہ مجھ سے کمزور تھا لیکن چونکہ اُس نے مقابلہ سے انکار کیا اور کہا کہ مارلو تو میری انسانیت نے مجھے کہا اب اگر تو نے اسے مارا تو تو انسان کہلانے کا مستحق نہیں رہے گا۔لیکن اگر وہ تندرست اور