انوارالعلوم (جلد 16) — Page 110
احمد بیت دنیا میں اسلامی تعلیم و تمدن۔انوار العلوم جلد ۱۶ انسان سمجھ سکتا ہے کہ دنیا کے جس گوشہ میں ہم جائیں، دنیا کی جس گلی میں سے ہم گزریں، دنیا کے جس گاؤں میں ہم اپنا قدم رکھیں وہاں ہمیں جو کچھ اسلام کے خلاف نظر آتا ہے اپنے نیک نمونہ سے اسے مٹا کر اس کی جگہ ایک ایسی عمارت بنانا جو قرآن کریم کے بتائے ہوئے نقشہ کے مطابق ہو ہمارا کام ہے پس تم سمجھ سکتے ہو کہ تمہارا چلن اور تمہارا طور اور تمہارا طریق اُسی وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے منشاء کو پورا کرنے والا ہو سکتا ہے، اُسی وقت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منشاء کو پورا کرنے والا ہو سکتا ہے، اُسی وقت زمین و آسمان کے پیدا کرنے والے خدا کے منشاء کو پورا کرنے والا ہو سکتا ہے جب کہ تم دنیا میں ایک خدا نما وجود بنو اور اسلام کی اشاعت کے لئے کفر کی ہر طاقت سے ٹکر لینے کے لئے تیار رہو۔یہ نہیں کہ دنیا تم کو اپنا سمجھتی ہو اور تم اس کو اپنا سمجھتے ہو، بے شک انسان بحیثیت انسان ہونے کے تمہارا محبوب ہونا چاہئے کیونکہ اس کی اصلاح کے لئے تمہیں کھڑا کیا گیا ہے لیکن جہاں انسان بحیثیت انسان ہونے کے تمہارا محبوب ہونا چاہئے کیونکہ اسی کی درستی اور اصلاح کے لئے تم کھڑے کئے گئے ہو وہاں اس کے خلاف اسلام کردار سے تمہارا کوئی تعلق نہیں ہونا چاہئے کیونکہ تم اس کے پیچھے چلنے کے لئے نہیں اسے اپنے پیچھے چلانے کے لئے کھڑے کئے گئے ہو۔اگر تم ایسا نہیں کرتے ، اگر تم اس کی ہاں میں ہاں ملا دیتے ہو، اگر تم اس کے ناجائز افعال کی اصلاح سے غافل رہتے ہو تو اس کے معنے یہ ہیں کہ تمہارے اندر منافقت کی رگ پائی جاتی ہے اور تم اپنے فرائض کی بجا آوری سے غافل ہو۔مجھے ہمیشہ حیرت آتی ہے ان لوگوں پر جو میرے پاس شکایتیں لے کر آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ لوگ ہماری مخالفت کرتے ہیں ہم کیا کریں۔میں انہیں کہتا ہوں تم اس بات پر کیوں غور نہیں کرتے کہ لوگ تمہاری کیوں مخالفت کرتے ہیں۔اگر وہ اس لئے مخالفت کرتے ہیں کہ وہ تمہارے متعلق غلط فہمی کا شکار ہیں اور سمجھتے ہیں کہ تم اسلام کے دشمن ہو تو اس مخالفت کو دور کر نے اور ان کو اپنا دوست بنانے کے دو ہی طریق ہو سکتے ہیں۔یا تو تمہیں اپنے دعوئی احمدیت کو چھوڑنا پڑے گا اور تمہیں بھی ویسا ہی بننا پڑے گا جیسے تمہارا مخالف ہے پھر بے شک وہ تمہاری طرف محبت کا ہاتھ بڑھا کر کہے گا کہ ہم دونوں ایک جیسے ہیں اور یا پھر تمہیں کوشش کر کے اس کو بھی اپنے جیسا بنانا پڑے گا اور درست طریق یہی ہے کہ تم اسے بھی اپنے اندر شامل کرنے کی کوشش کرو۔اس صورت میں بھی وہ تمہاری طرف اپنا ہاتھ بڑھا کر کہے گا کہ یہ میرا محسن ہے اور تمہاری آپس کی