انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 111 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 111

احمد بیت دنیا میں اسلامی تعلیم و تمدن۔انوار العلوم جلد ۱۶ مخالفت ختم ہو جائے گی لیکن اگر تم اس طریق کو اختیار نہیں کرتے اور یہ شور مچاتے چلے جاتے ہو کہ لوگ ہمارے دشمن ہیں تو اس سے زیادہ بے وقوفی کی علامت اور کیا ہو سکتی ہے۔اگر تم نے احمدیت کو سمجھا ہے اور اگر تم نے احمدیت کے مغز کو حاصل کیا ہے تو تمہیں اس بات کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ سوائے اس کے کہ کوئی شخص سچائی کی تحقیق کر رہا ہو اور اُس پر ایک حد تک سچائی گھل چکی ہو۔یا سوائے ان کے جو مادر پدر آزاد ہوتے ہیں وہ مسلمان کہلاتے ہیں مگر مسلمان نہیں ہوتے ،عیسائی کہلاتے ہیں مگر عیسائی نہیں ہوتے ، یہودی کہلاتے ہیں مگر یہودی نہیں ہوتے ، ہند و کہلاتے ہیں مگر ہندو نہیں ہوتے ، باقی کسی انسان سے تمہارا یہ امید کرنا کہ جس عظیم الشان کام کے لئے تم کھڑے ہوئے ہو اُس میں تمہاری کوئی مخالفت نہ کرے ایک بالکل احمقانہ اور مجنونانہ خیال ہے۔یہ مخالفت اسی صورت میں ختم ہو سکتی ہے جب تم ان کو اپنا دوست بناؤ اور وہ دوست اسی صورت میں بن سکتے ہیں جب تم ان کی غلط فہمیوں کو دور کر دو اور انہیں اسلام اور احمدیت کی برکات سے روشناس کرو۔پس اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے زندگی بسر کرو اور اس خیال میں مت رہو۔(خصوصاً میں زمینداروں کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں ) کہ فلاں مشکل پیدا ہوگئی ہے کسی آدمی کو قادیان بھیجا جائے جو کسی ناظر سے ملے ناظر خدا نہیں، میں خدا نہیں ، جب خدا نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ جو لوگ اس کے دین کی خدمت کے لئے کھڑے ہوں گے انہیں ابتلاؤں اور امتحانوں کی بھٹی میں سے گزرنا پڑے گا تو کوئی انسان تمہاری کیا مدد کر سکتا ہے۔اگر تم آرام کی زندگی بسر کرنا چاہتے ہو تو یا درکھو کہ آرام سے زندگی بسر کرنے والوں کے لئے احمدیت میں کوئی جگہ نہیں کیونکہ احمدیت اس لئے نہیں آئی کہ اپنے عقائد کو ترک کر کے اور مداہنت سے کام لے کر دنیا سے صلح کر لے، احمدیت اس لئے نہیں آئی کہ گاؤں کے چند نمبردار اس کا اقرار کر لیں اور وہ تمہیں دُکھ نہ دیں، احمدیت اس لئے نہیں آئی کہ چند بڑے بڑے چوہدری اس کی صداقت کا اقرار کر لیں، بلکہ احمدیت اس لئے آئی ہے کہ سارے گاؤں، سارے شہر، سارے صوبے، سارے ملک اور سارے براعظم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں ڈال دیئے جائیں۔پس یہ چیزیں حقیقت ہی کیا رکھتی ہیں کہ ان کی طرف توجہ کی جائے جس دن یہ آگ تم میں پیدا ہوگئی تم اپنے آپ کو مضبوطی میں ایک پہاڑ محسوس کرو گے لیکن جب تک یہ آگ تم میں پیدا نہیں ہو گی تم چھوٹی چھوٹی باتوں پر خوش رہو گے جیسے بیمار مر رہا ہوتا ہے تو وہ افیون کی گولی کھا لیتا ہے۔افیون کی گولی سے اس کا درد بے شک کم ہو جائے مگر اسے آرام نہیں آئے گا۔اس کے