انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page ix of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page ix

انوار العلوم جلد ۱۶ تعارف کا ہے۔جب یہ دونوں چیزیں مل جائیں تو پھر مؤمن جنت کا درخت بن جاتا ہے۔پس جب تک تم کلمہ طیبہ نہ بنوگی جنت کا درخت نہیں بن سکو گی۔قرآن کریم نے تمہارے سامنے ایک موٹی مثال درخت کی پیش کی ہے۔۔۔جس طرح درخت کو پانی دیا جاتا ہے اسی طرح تم اپنے ایمان کو عمل کا پانی دو۔اپنے اندر اچھی باتیں پیدا کرو۔جب تم ایسا کرو گی تو تم جنت کا درخت بن جاؤ گی۔پھر جس طرح اچھے درخت پر اچھی شکل اور اچھی خوشبو کے لذیذ اور شیریں پھل پیدا ہوتے ہیں اسی طرح تم اپنے ایمان کو خوش شکل ، خوشبودار، لذیذ اور شیریں بناؤ۔جب تم ایسا درخت بن جاؤ گی تو اللہ تعالیٰ کے فرشتے تم جہاں بھی جاؤ گی وہاں سے اُٹھا کر تمہیں اللہ تعالیٰ کی جنت میں لے جائیں گے۔کیونکہ خدا تعالیٰ کہے گا کہ ان درختوں کے بغیر میرا باغ مکمل نہیں ہوسکتا۔“ (۹) بعض اہم اور ضروری امور (۱۹۴۱ء) یہ مضمون حضرت مصلح موعود کے ایک بہت ہی اہم خطاب پر مشتمل ہے جو حضور نے ۲۷ دسمبر ۱۹۴۱ ء کو جلسہ سالانہ قادیان کے دوسرے روز ارشاد فرمایا۔اس خطاب میں درج ذیل اہم امور پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ا۔جماعتی اخبارات و رسائل کا تعارف۔ان کی اشاعت اور خرید بالخصوص روز نامہ الفضل اور سیر روحانی کے خریداران میں اضافہ کی تحریک۔۲۔تفسیر القرآن کے کام کا جائزہ۔نیز تفسیر کبیر کی زیادہ سے زیادہ اشاعت کی طرف توجہ، پیغامیوں بالخصوص مولوی محمدعلی صاحب کی طرف سے تفسیر کبیر کی مخالفت پر تبصرہ۔۔انگریزی ترجمہ و تفسیر قرآن کی تکمیل کی نوید سناتے ہوئے اس کی جلد از جلد اشاعت کی ضرورت پر زور۔۴۔دورانِ سال ہونے والی بیعتوں کی تفصیل بیان کرتے ہوئے ہندوؤں میں دعوت الی اللہ کی ضرورت پر زور۔