انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 53 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 53

انوار العلوم جلد ۱۶ سیر روحانی (۲) وَ يُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ٣٦ یعنی انصار اتنے وسیع الحوصلہ ہیں کہ ان کے دلوں میں دُنیوی اموال اور نعمتوں کی کوئی خواہش ہی نہیں اُن کا یہی جی چاہتا ہے کہ دوسرے مسلمان بھائیوں کی مدد کریں خواہ خود انہیں تنگی ہو یا تکلیف ، وہ دوسروں کو آرام پہنچانے کا فکر رکھتے ہیں۔جس طرح مسجد کے دروازے ہر ایک کے لئے کھلے ہوتے ہیں اسی طرح انصار نے اپنی جائدادیں بانٹ دیں اور مکان دیدئیے۔جب مہاجرین ہجرت کر کے مدینہ گئے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بلایا اور فرمایا کہ یہ لوگ باہر سے آئے ہیں ، آؤ میں تم دونوں کو آپس میں بھائی بھائی بنادوں۔چنانچہ ایک ایک انصاری اور ایک ایک مہاجر کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھائی بھائی بنا دیا۔ہمارے ہاں بعض لوگ بچپن سے ایک دوسرے کے دوست ہوتے ہیں مگر وہ کسی کے لئے کوئی قربانی نہیں کرتے ، لیکن انصار کا یہ حال تھا کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین کو ان کا بھائی بنا دیا تو ان میں سے بعض نے اُس وقت گھر جا کر اپنی جائداد میں تقسیم کر دیں اور مہاجرین سے کہا کہ آدھی جائداد ہماری ہے اور آدھی تمہاری۔بعض جو تاجر تھے انہوں نے مہاجرین کو اپنی تجارت میں شریک کر لیا۔مہاجرین نے بیشک انکار کر دیا اور کہا کہ تم ہمیں اُجرت دیدینا ہم تمہاری خدمت کریں گے مگر اُنہوں نے اپنی طرف سے احسان کرنے میں کوئی کمی نہیں کی۔بلکہ ایک صحابی نے تو اس حد تک غلو کیا کہ وہ اپنے مہاجر بھائی کو اپنے گھر لے گئے اُن کی دو بیویاں تھیں اور پردہ کا حکم ابھی نازل نہیں ہوا تھا، انہوں نے اپنی دونوں بیویاں اُن کے سامنے کر دیں اور کہا کہ ان میں سے جس کو تم پسند کرو میں اُسے طلاق دیدیتا ہوں تم اُس سے شادی کر لو۔یہ کتنی بڑی قربانی ہے جو انصار نے کی۔جس طرح مسجد کے دروازے ہر ایک کے لئے کھلے ہوتے ہیں اسی طرح انہوں نے اپنے دروازے مہاجرین کے لئے کھول دیئے۔یہ اتنی اعلیٰ درجہ کی مثال ہے کہ تاریخ میں اس قسم کے وسعت حوصلہ کی مثال اور کہیں نظر نہیں آتی۔انتخاب خلافت کے وقت انصار کا پھر سب سے بڑی حوصلہ کی مثال انصار نے اُس وقت قائم کی جب خلافت کے انتخاب کا وقت عدیم النظیر ایثار اور وسعت حوصلہ آیا۔مسائل خلافت، نبی کے زمانہ میں ہمیشہ مخفی رہتے ہیں، اگر نبی کے زمانہ میں ہی یہ باتیں بیان کر دی جائیں تو ماننے والوں کی جانیں نکل جائیں کیونکہ اُن کو نبی سے ایسی شدید محبت ہوتی ہے