انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 575 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 575

انوار العلوم جلد ۱۶ نظام تو میں اس موقع پر ایک دشمن کی تعریف کئے خواجہ کمال الدین صاحب پر الوصيّة بغیر نہیں رہ سکتا۔جس دن حضرت مسیح موعود میں بیان کردہ نئے نظام کا اثر علیہ الصلواۃ والسلام نے وصیت لکھی اور اُس کا مسودہ باہر بھیجا تو خواجہ کمال الدین صاحب اس کو پڑھنے لگ گئے جب وہ پڑھتے پڑھتے اس مقام پر پہنچے تو وہ بے خود ہو گئے۔ان کی نگاہ نے اس کے حُسن کو ایک حد تک سمجھا وہ پڑھتے جاتے اور اپنی رانوں پر ہاتھ مار مار کر کہتے جاتے کہ ”واہ اوے مرز یا احمدیت دیاں جڑاں لگا دتیاں ہیں یعنی واہ واہ مرزا تو نے احمدیت کی جڑوں کو مضبوط کر دیا ہے۔خواجہ صاحب کی نظر نے بے شک اس کے حسن کو ایک حد تک سمجھا مگر پورا پھر بھی نہیں سمجھا در حقیقت اگر وصیت کو غور سے پڑھا جائے تو یوں کہنا پڑتا ہے کہ واہ او مرزا تو نے اسلام کی جڑیں مضبوط کر دیں، واہ او مرزا تو نے انسانیت کی جڑیں ہمیشہ کے لئے مضبوط کر دیں۔اَللَّهُمَّ صَلَّ عَلى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَعَلَى عَبْدِكَ الْمَسِيحِ الْمَوْعُوْدِ وَبَارِكْ وَسَلَّمُ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ۔نظام نو کا ایک چھوٹا سا نقشہ تحریک جدید کی صورت میں کمر جیسا کہ میں بتا آیا ہوں یہ کام وقت چاہتا ہے اور اس دن کا محتاج ہے جب سب دُنیا میں احمدیت کی کثرت ہو جائے ابھی موجودہ آمد مرکز کو بھی صحیح طور پر چلانے کے قابل نہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں تحریک جدید کا القاء فر ما یا تا کہ اس ذریعہ سے ابھی سے ایک مرکزی فنڈ قائم کیا جائے اور ایک مرکزی جائداد پیدا کی جائے جس کے ذریعہ تبلیغ احمدیت کو وسیع کیا جائے۔پس تحریک جدید کیا ہے وہ خدا تعالیٰ کے سامنے عقیدت کی یہ نیاز پیش کرنے کے لئے ہے کہ وصیت کے ذریعہ تو جس نظام کو دنیا میں قائم کرنا چاہتا ہے اس کے آنے میں ابھی دیر ہے اس لئے ہم تیرے حضور اس نظام کا ایک چھوٹا سا نقشہ تحریک جدید کے ذریعہ پیش کرتے ہیں تا کہ اس وقت تک کہ وصیت کا نظام مضبوط ہو اس ذریعہ سے جو مرکزی جائداد پیدا ہو اس سے تبلیغ احمدیت کو وسیع کیا جائے اور تبلیغ سے وصیت کو وسیع کیا جائے۔نظام نو کے قریب تر لانے کا ذریعہ پس جوں جوں تبلیغ ہوگی اور لوگ احمدی ہوں گے وصیت کا نظام وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا جائے گا