انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 554 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 554

انوار العلوم جلد ۱۶ نظام تو مثلاً اس پر یہ اعتراض پڑتا ہے کہ اس میں بھی انفرادی جو ہر کے اظہار کے مواقع میں کمی آجاتی ہے اور اس طرح جسم کا خیال تو کیا جاتا ہے مگر دماغ جو زیادہ قیمتی ہے اسے نقصان پہنچ جاتا ہے۔غرباء کی ضرورتوں کے لئے چندے حاصل نیشنلسٹ سوشلزم کی اس بارہ میں۔مفصل سکیم مجھے معلوم نہیں لیکن ہٹلر ۳۲ کرنے کے متعلق ہٹلر اور گوئرنگ کی سکیم اور گوئر نگ تا کی اس سکیم کا مجھے علم ہے کہ سرمایہ دار جو زیادہ حصہ قومی خدمت میں لیں انہیں حکومت کی امداد کے زیادہ مواقع بہم پہنچائے جائیں۔وہ کہتے ہیں کہ جو لوگ حکومت کو زیادہ چندے دیں گے اور قومی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے ان کا خاص طور پر خیال رکھا جائے گا اور انہیں ٹھیکے وغیرہ دیئے جائیں گے لیکن یہ سکیم بھی مکمل نہیں کیونکہ اس طرح بھی پورا سرمایہ جو کافی ہو جمع نہیں ہو سکتا اور نیز اس میں یہ پہلو مذکور نہیں کہ ملک کی ضرورت کی ذمہ داری حکومت پر کس حد تک ہو گی۔بالشوزم کے نظریہ کی رُو سے غرباء بالشوزم کی تدبیر یہ ہے کہ سب اہم تجارتیں اور صنعتیں حکومت کے ہاتھ میں ہوں اور کی تکالیف دور کرنے کی تدابیر زراعت پیشہ کی سب زائد آمد حکومت جبراً لے لے۔سب دولتمندوں کی دولت جبراً چھین لے۔اس پر جو اعتراض پڑتے ہیں پہلے بتا آیا ہوں خلاصہ یہ کہ اس سے انفرادیت بالکل تباہ ہو جاتی ہے اور اس قسم کی حکومت میں جب ضعف آئے گا اس میں معمولی تبدیلی پیدا نہ ہو گی بلکہ پھر زارجیسی حکومت قائم ہو جائے گی۔فرانس کا تجربہ گواہ ہے بور بون خاندان نے فرانس میں فوزویت ( عوام کی حکومت جو جمہوریت سے مختلف ہے ) پیدا کی اور فوز ویت نے بونا پارٹ ۳۴ جیسا جبار پیدا کیا۔اسی طرح زار نے بالشوزم پیدا کی اور اسے کامیاب بنایا اور بالشوزم تھوڑے ہی عرصہ میں کمزور ہو کر پھر ایک نیا جبار پیدا کر دے گی۔اسی طرح بالشوزم میں یہ نقص ہے کہ ملک کے ایک حصہ کو خواہ مخواہ دشمن بنا لیا گیا ہے اور اس سے دشمنوں کا سا سلوک شروع کر دیا گیا ہے یعنی سب پرانے خاندانوں اور علمی خدمت کرنے والے لوگوں کو دشمن بنا لیا گیا ہے۔اسلام کی سکیم ان سب سے مختلف ہے اسلام نے اول تو ان تینوں تحریکوں کے خلاف۔نظریہ پیش کیا ہے کہ آرام کے وہ معنی نہیں جو تم کہتے ہو یعنی تم تو آرام کی زندگی کے یہ معنے لیتے Al