انوارالعلوم (جلد 16) — Page 517
انوار العلوم جلد ۱۶ نظام تو ہیں ان دنیوی تحریکات کے مقابلہ میں مذاہب اسکے متعلق کیا نظریہ پیش کرتے ہیں اور وہ کونسا نیا نظام ہے جو یہ مذاہب دُنیا میں قائم کرنا چاہتے ہیں۔اس غرض کے لئے میں سب سے پہلے یہودیت کو لے لیتا ہوں۔یہودیت میں نئے نظام کی شکل اور اس کا نتیجہ یہودیت دُنیا کے لئے جو نظام پیش کرتی ہے وہ محض قومی ہے اُس میں کوئی بات عالمگیر نہیں۔مثلاً یہودیت کہتی ہے کہ یعقوب کی اولاد ہی خدا کو پیاری ہے باقی سب اس کی غلامی کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔اگر اس مذہب کی کسی وقت دُنیا پر حکومت ہو جائے تو یقیناً اس تعلیم کے ماتحت ظلم بڑھے گا گھٹے گا نہیں۔یا مثلاً یہودیت کہتی ہے تو اپنے بھائی سے سُود نہ لے اور اسے چھوڑ کر جس سے چاہے سو د لے لے۔اب اگر سود لینا بُرا ہے تو وجہ کیا ہے کہ ایک یہودی سے نہ لیا جائے اور غیر یہودی سے لے لیا جائے۔اس کی وجہ بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ یہودیت ایک قومی مذہب ہے۔وہ کہتی ہے کہ اوروں سے بے شک لے لو مگر اپنوں سے نہ لو۔پس اس مذہب کو اگر دنیا پر غلبہ حاصل ہو جائے تو اس کا کام یہ ہوگا کہ وہ اور سب سے ٹیکس وصول کرے گی اور یہودیوں میں اس کو تقسیم کر دے گی۔اسی طرح یہودیت صدقہ و خیرات کا تو حکم دیتی ہے مگر کہتی ہے صدقہ وخیرات صرف اپنے ہی ہم قوموں کے لئے ہو۔اب اگر کوئی یہودی بادشاہ ہو تو اس تعلیم کے ماتحت جتنے ٹیکس ہوں گے سب یہودیوں کو ملیں گے۔اسی طرح یہودیت یہ نہیں کہتی کہ تو کسی کو غلام نہ بنا بلکہ وہ کہتی ہے اپنے بھائی کو ہمیشہ کے لئے غلام نہ بناؤ گو یا اول تو اپنے بھائی کو غلام بناؤ ہی نہیں اور اگر بناؤ تو ہمیشہ کے لئے نہ بناؤ۔اس کے متعلق یہودی مذہب میں یہ حکم ہے کہ ہر غلام ساتویں سال آزاد کر دیا جائے۔اگر کوئی شخص ساتویں سال کے معا بعد کوئی غلام خریدے تو اس تعلیم کے ماتحت وہ چھ سال کے بعد آزاد ہو جائے گا۔اگر ایک سال گزر چکا ہو تو وہ پانچ سال کے بعد آزاد ہو جائے گا ، دو سال گزر چکے ہوں تو چار سال کے بعد آزاد ہو جائے گا، تین سال گزر چکے ہوں تو تین سال کے بعد اور اگر چار سال گزر چکے ہوں تو دو سال کے بعد آزاد ہو جائے گا اور اگر کوئی چھٹے سال کسی غلام کو خریدے تو وہ اگلے سال خود بخود آزاد ہو جائے گا۔گویا زیادہ سے زیادہ سات سال تک ایک یہودی کو غلام بنایا جا سکتا ہے اس سے زیادہ عرصہ کسی کو غلام بنا کر نہیں رکھا جاسکتا۔باقی دُنیا کے لوگ خواہ ساری عمر غلام رہیں اس کی یہودیت کوئی پروا بوم بوم