انوارالعلوم (جلد 16) — Page 229
مستورات سے خطاب انوار العلوم جلد ۱۶ حضرت خواجہ نظام الدین صاحب، حضرت سید احمد صاحب بریلوی اور دوسرے ہزاروں بزرگ جو امت محمدیہ میں گزرے ہیں جب یہ سارے وہاں اکٹھے ہو جائیں گے تو لوگ ان کو دیکھ کر حیران رہ جائیں گے۔دنیا میں تو الگ الگ درخت تھے لیکن وہاں میٹھے پھلوں والے باغات کی صورت میں دکھائی دیں گے اور ان کے اعمال اور ایمان کو دیکھ کر لوگ کہہ اٹھیں گے کہ اس سے بڑھ کر کوئی جنت نہیں۔جس گاؤں میں جھوٹ بول کر لوگ فتنہ ڈلواتے ہوں ، لوگوں کا مال ظلماً چھین لیتے ہوں، بھو کے کا خیال نہ کرتے ہوں اور ڈاکے ڈالتے ہوں اُس کو کیسے جنت کہہ سکتے ہیں؟ اس کے مقابلہ میں اگلے جہان کی سب سے بڑی جنت یہ ہے کہ اس میں تمام نیکوں کو اکٹھا کر دیا جائے گا اور بدوں کو الگ کر دیا جائے گا۔نماز پڑھنے والی عورتیں اور نماز پڑھنے والے مرد، سچ بولنے والی عورتیں اور سچ بولنے والے مرد، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والی عورتیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والے مرد، قرآن کریم پر ایمان لانے والی عورتیں اور قرآن کریم پر ایمان لانے والے مرد، پہلے نبیوں پر ایمان لانے والی عورتیں اور پہلے نبیوں پر ایمان لانے والے مرد ، لوگوں کی خدمت کرنے والی عورتیں اور لوگوں کی خدمت کرنے والے مرد، جھوٹ ، فریب اور جھگڑے سے بچنے والی عورتیں اور جھوٹ ، فریب اور جھگڑے سے بچنے والے مرد جس جگہ جمع ہوں گے وہاں رہنے کو کس کا دل نہ چاہے گا۔بے شک وہاں باغ بھی ہوں گے لیکن اصل مطلب یہی ہے کہ وہ ایسی جگہ ہوگی جہاں تمام نیک لوگ جمع ہوں گے۔پس میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ کلمہ تو تمہیں پڑھا دیا گیا ہے اب اس کو طیبہ بنانا تمہارے اختیار میں ہے۔لوگ بڑے بڑے نام رکھتے ہیں لیکن نام سے کچھ نہیں بنتا۔اسی طرح صرف کلمہ پڑھنے سے عزت نہیں ملتی بلکہ کلمہ طیبہ سے ملتی ہے۔جب یہ دونوں چیزیں مل جائیں تو پھر مؤمن جنت کا درخت بن جاتا ہے۔پس جب تک تم کلمہ طیبہ نہ بنو گی جنت کا درخت نہیں بن سکو گی۔قرآن کریم نے تمہارے سامنے ایک موٹی مثال درخت کی پیش کی ہے۔وہ تم کو چاند یا سورج کی طرف نہیں لے گیا، اس نے سکندر یا ارسطو کی کوئی مثال پیش نہیں کی ، اُس نے الجبرے کا کوئی سوال نہیں ڈالا ، اس نے تم کو کسی عمارت کے گنبدوں کی طرف نہیں لے جانا چاہا بلکہ خدا نے وہ بات کہی ہے جو تم میں سے ہر ایک نے دیکھی اور جس کو بچہ بچہ جانتا ہے۔خدا نے کہا ہے کہ ہم تم کو پہاڑ اور دریا کی طرف نہیں لے جاتے بلکہ ہم کہتے ہیں کہ کبھی تم نے درخت کو دیکھا ہے یا نہیں؟ جس طرح درخت کو پانی دیا جاتا ہے اسی طرح تم اپنے ایمان کو عمل کا پانی دو۔اپنے اندر اچھی