انوارالعلوم (جلد 16) — Page 166
اللہ تعالیٰ ، خاتم النبیین اور امام وقت۔انوار العلوم جلد ۱۶ ڈرو اور حد سے نہ بڑھو۔“ اس مختصر سے فقرہ کو حذف کرنے کے اس کے سوا کوئی معنی نہ تھے کہ وہ ذہنوں کو اس طرف سے روکنا چاہتے تھے کہ اس جگہ ایک ایسے نبی کا ذکر ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع کے بغیر نبی ہوا تھا اور جس کی وحی قرآن کریم کی وحی کے تابع نہ تھی۔اب رہا یہ سوال کہ بہر حال حضرت مسیح موعود نبی کے لفظ کو استعارہ قرار دینے کا مطلب علیہ السلام نے نبی کے لفظ کو اس جگہ استعارہ قرار دیا ہے اس کا کیا مطلب ہے تو اس کا جواب وہ ہے جو میں حقیقۃ النبوۃ میں بانتفصیل دے چکا ہوں کہ حقیقت استعارہ اور مجاز کے الفاظ نسبتی الفاظ ہیں۔ایک قوم کی اصطلاح کے مطابق جو معنی حقیقی ہوتے ہیں دوسری کے نزدیک وہ مجازی ہو جاتے ہیں۔جیسے اسلام کے نزدیک صلوٰۃ کے حقیقی معنی اسلامی عبادت کے ہیں اور دوسرے لوگوں کی عبادت یا صلوۃ کے دوسرے لغوی معانی مجازی ہیں۔اسی طرح اسلام کی اصطلاح میں کلمہ ایک فقرہ کا نام ہے لیکن نحویوں کے نزدیک کلمہ کے معنی ایک لفظ کے ہیں۔لغت کے رو سے حرف کے معنی بولے ہوئے یا ملفوظ کے ہیں اور یہ لفظ کلمہ کے معنوں میں مستعمل ہے۔لیکن عام بول چال کے لحاظ سے اس کے معنی حروف ھجاء میں سے کسی حرف کے ہیں۔اور نحویوں کے نزدیک اُس ایک یا زیادہ حرفوں سے بنے ہوئے لفظ کے بھی ہیں جو اپنی ذات میں کوئی مستقل معنی نہیں رکھتا۔اب ان میں سے ہر اک گروہ کی اصطلاح کو مدنظر رکھتے ہوئے اِن الفاظ کے حقیقی معنی وہ ہوں گے جو اس گروہ میں رائج ہیں اور دوسرے سب معانی مجازی ہونگے۔ہم نحویوں سے مخاطب ہونگے تو کلمہ اور حرف کے حقیقی معنی وہ ہو نگے جوانکی اصطلاح میں ان الفاظ کے مقرر کئے گئے ہیں۔اور اگر دینی کتب میں کلمہ کا لفظ استعمال کریں گے تو کلمہ کے حقیقی معنی لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ کے ہونگے اور دوسرے ب معنی مجازی ہونگے۔یہی حال باقی سب اصطلاحات کا ہے۔اسی نکتہ کو مدنظر رکھتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس جگہ فرمایا ہے کہ حدیث میں انہی مجازی معنوں کے رو سے نبی کا لفظ بولا گیا ہے جو عام صوفیائے کرام کے نزدیک مسلم ہیں۔یعنی ایک ایسے نبی کی خبر دی گئی ہے جو براہِ راست نبوت حاصل کرنے والا نہیں ہے بلکہ وہ نبوت کا مقام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل سے حاصل کرے گا۔اور وہ صاحب شریعتِ جدیدہ نہ ہوگا۔یہی وہ تعبیر ہے جو حقیقی نبی کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمائی ہے اور اس میں ہمیں مولوی محمد علی صاحب اور ان کے رفقاء سے ہرگز کوئی اختلاف نہیں۔ہمارا عقیدہ ہے اور ہم شروع سے اس وقت تک اس پر