انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 159 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 159

۔ہے۔اللہ تعالیٰ ، خاتم النبیین اور امام وقت۔۔انوار العلوم جلد ۱۶ نواس بن سمعان کی حدیث کو حدیث کے لحاظ سے ساقط الاعتبار قرار دیا ہے درست نہیں۔کیونکہ اگر آپ اس حدیث کو بحیثیت حدیث ساقط الاعتبار قرار دیتے تو خود ہی اس سے استدلال کیوں فرماتے ؟ اور کیوں فرماتے کہ یقیناً سمجھو کہ اس حدیث اور ایسا ہی اس کی مثال کے ظاہری معنی ہرگز مراد نہیں بلکہ یہ تمام حدیث ان مکاشفات کی قسم میں سے ہے جن کا لفظ لفظ تعبیر کے لائق ہوتا ہے۔‘۲۶ کیا ساقط الاعتبار احادیث مکاشفات میں سے ہوتی ہیں اور کیا اللہ تعالیٰ کی طرف سے دکھائے گئے مکاشفات ساقط الاعتبار ہوتے ہیں؟ پس ان الفاظ سے اور ان حوالجات سے جو میں آگے نقل کروں گا صاف ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس حدیث کو اس لحاظ سے ساقط الاعتبار نہیں قرار دیتے کہ یہ حدیث رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک نہیں پہنچتی۔بلکہ اس لحاظ سے ساقط الاعتبار قرار دیتے ہیں کہ اس کے بیان کرنے میں راوی سے بعض غلطیاں ہو گئی ہیں اور اس کی تشریح کے لئے دوسری احادیث سے مدد لینے کی ضرورت پیش آتی ہے اور قرآن کریم کی روشنی میں اس کی تشریح ضروری ہے۔چنانچہ میرے اس دعویٰ کی تصدیق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک دوسرے حوالہ سے ہوتی ہے۔جس میں آپ ارشاد فرماتے ہیں کہ :- دو لیکن خوب غور سے سوچنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ دراصل ۲۷،، حدیث موضوع نہیں ہے ہاں استعارات سے پُر ہے۔پس جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حتمی طور پر اس حدیث کی صحت کا اقرار فرمایا ہے اور ارشاد فرمایا ہے کہ غور سے سوچنے سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ حدیث موضوع نہیں بلکہ استعارات سے پر ہے تو یہ کہنا کہ یہ حدیث ضعیف ہے یا یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسے ضعیف اور ساقط الاعتبار قرار دیا ہے صرف اس امر کا اقرار کرنا ہے کہ ایسا کہنے والے شخص نے اس حدیث کو غور سے نہیں سوچا اور وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف وہ بات منسوب کرتا ہے جو آپ نے نہیں کہی۔باقی رہا یہ امر کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسے استعارات سے پُر قرار دیا ہے۔سو اس کا کسی کو انکار نہیں ہم بھی اسے استعارات سے پر قرار دیتے ہیں اور اس میں استعارات کا وجود تسلیم کرتے ہیں۔ہاں اس امر کو تسلیم نہیں کرتے کہ اس میں جو نبی کا لفظ استعمال ہوا ہے اس سے مراد کوئی ایسا استعارہ ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام