انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 160 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 160

انوار العلوم جلد ۱۶ اللہ تعالیٰ ، خاتم النبیین اور امام وقت۔في الواقعہ نبی نہ تھے اور اس عقیدہ کے وجوہ میں آگے چل کر بیان کرونگا۔مولوی صاحب کو اس امر پر اصرار ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ یہ ۲۸،، تمام حدیث ان مکاشفات کی قسم میں سے ہے جن کا لفظ لفظ تعبیر کے لائق ہوتا ہے۔۲۸۰ اس کا جواب یہ ہے کہ اس قسم کے الفاظ کے معنی اردو میں یہی ہوتے ہیں کہ کثرت سے اس کا وجود پایا جاتا ہے ورنہ بلا قومی قرینہ کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ کلی طور پر بلا استثناء وہ بات پائی جاتی ہے۔یہ ہماری زبان کا ایک عام محاورہ ہے بلکہ ہر زبان کا محاورہ ہے۔اور اس کو ایسا گلیہ تسلیم نہیں کیا جاتا کہ اس سے مستشنی کوئی چیز ہو ہی نہ سکے بلکہ مجھے تو یقین ہے کہ خود مولوی صاحب بھی ایسے لفظ کئی دفعہ بول جاتے ہوں گے۔جیسے کہ مثلاً کھانے میں نمک زیادہ ہو تو لوگ کہہ دیتے ہیں کہ اس میں تو نمک ہی نمک ہے اور اس سے ہرگز یہ مراد نہیں ہوتی کہ نہ گوشت ہے نہ دال ہے نہ مرچ ہے نہ دوسری کوئی اور شے ہے۔خود حدیث کے الفاظ کو بھی دیکھا جائے تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ بعض الفاظ تو اس میں ضرور بغیر استعارہ کے استعمال ہوئے ہیں۔مولوی صاحب نے میری کسی سابق تحریر سے یہ فقرہ نقل کر کے کہ ”ورنہ کوئی شخص کہہ دے گا کہ میسج بھی ایک استعارہ ہے اور مہدی بھی ایک استعارہ ہے۔“ میری ہنسی اُڑائی ہے اور نتیجہ نکالا ہے کہ میں نے حدیث کو غور سے نہیں پڑھا۔کیونکہ حدیث میں مہدی کا لفظ نہیں آیا اور مسیح بھی نہیں آیا بلکہ مسیح ابن مریم آیا ہے۔حالانکہ میرا یہ مطلب نہیں کہ اس حدیث میں مہدی کا لفظ آیا ہے بلکہ مہدی کے لفظ کو صرف اس لئے شامل کر لیا گیا ہے کہ لَا مَهْدِى إِلَّا عِیسَی کی حدیث کے رو سے آنے والے مسیح نے مہدی بھی ہونا تھا پس اس اشتراک کی وجہ سے مسیح کے ساتھ مہدی کا لفظ بھی شامل کر لیا گیا۔یہ کوئی ایسی اہم بات نہ تھی اور نہ اس خاص لفظ سے کوئی مستقل نتیجہ نکالا گیا تھا کہ مولوی صاحب کو اس پر اعتراض ہوتا۔وہ مہدی کے لفظ کو چھوڑ دیں۔مسیح کا لفظ ہی رہنے دیں۔مولوی صاحب کا یہ فرمانا کہ مسیح ابن مریم کا لفظ حدیث میں ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی لکھا ہے کہ بخاری میں بھی مجھے نبی کہا گیا ہے (ضمیمہ تحفہ گولڑو یہ صفحہ ۲۴ طبع دوم ) اس جگہ آپ نے بھی اس طریق کو استعمال فرمایا ہے کہ مسلم کی حدیث میں چونکہ نبی اللہ صاف آ گیا ہے اور بخاری میں نزول عیسی کا ذکر ہے۔آپ نے عیسی کے نام کی وجہ سے جو نبی تھے بخاری کی طرف بھی یہ بات منسوب کر دی ہے ورنہ مولوی صاحب بخاری کا وہ حوالہ دکھا ئیں جس میں عیسی آنے والے کو نبی اللہ کہا گیا ہے۔