انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 560 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 560

۸۷ انوار العلوم جلد ۱۶ نظام تو گے۔دیکھو اس تعلیم کے ساتھ باوجود انفرادیت اور عائلیت جیسی ضروری چیزوں کی حفاظت کا وہ مقصد بھی پورا ہو جاتا ہے جسے بالشوزم پورا کرنا چاہتی ہے۔ہر زمانہ میں غرباء کی ضروریات اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ تو ہوئی لفظی تعلیم تم کہتے تھے کہ اسلام غرباء کے کھانے کا بھی پورا کرنے والی اسلامی تعلیم انتظام کرتا ہے، ان کے کپڑے کا بھی انتظام کرتا ہے، ان کے مکان کا بھی انتظام کرتا ہے ور ان کے علاج اور تعلیم کا بھی انتظام کرتا ہے مگر تم نے یہ نہیں بتایا کہ اسلام اس میں کامیاب بھی ہوا ہے یا نہیں ؟ اگر کامیاب ہو چکا ہے تو ہمیں اس کا کوئی نمونہ دکھاؤ۔اس کا جواب یہ ہے کہ تعلیم وہی کامیاب اور اعلیٰ ہوتی ہے جو ہر زمانہ کے مطابق سامان پیدا کرے یعنی وہ لچکدار ہوا اور اپنے مقصد کو زمانہ کی ضرورت کے مطابق پورا کرے۔جو تعلیم لچکدار نہیں ہوگی وہ کسی جگہ کام دیگی اور کسی جگہ کام نہیں دے گی۔جیسے اگر کوئی لکڑی کا تختہ ہو تو وہ ہر جگہ کا م نہیں آ سکے گا اگر جگہ چھوٹی ہو گی تو لازماً وہاں لکڑی کا تختہ کام نہیں دے سکے گا کیونکہ وہ اس میں سمائے گا نہیں لیکن اگر کسی کے پاس چادر ہو تو چھوٹی جگہ پر وہ سمیٹی جا سکے گی اور بڑی جگہ پر پھیلائی جا سکے گی۔پس تعلیم وہی کامیاب ہوتی ہے جس میں ہر زمانہ کی ضرورت کے مطابق لچک پیدا ہو سکے۔اس قسم کی لچک نہ ہو جو آج کل کے نو تعلیم یافتہ مراد لیتے ہیں کہ انہوں نے اس لچک میں سارا قرآن ہی ختم کر دیا ہو۔ابتدائے اسلام میں غرباء کی اسلام کے ابتدائی دور میں اس کی ضرورت کے مطابق یہ تعلیم کلی طور پر کامیاب رہی ہے چنانچہ ضرورتیں پوری کرنے کا طریقہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں نہ صرف سادگی پر عمل کرایا گیا بلکہ جب حکومت کی ذمہ داری مسلمانوں پر عائد ہوئی تو تاریخ سے پتہ لگتا ہے کہ علاوہ زکوۃ کے غرباء کی سب ضرورتیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چندوں سے پوری فرمایا کرتے تھے اور اس ضمن میں بعض دفعہ صحابہ بڑی بڑی قربانیاں کیا کرتے تھے۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ایک وقت اپنا سارا مال دے دیا، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ایک وقت قریباً سارا مال دے دیا اور یہ زکوۃ نہ تھی۔پس جس قدر ضرورت تھی اس کے مطابق اس تعلیم نے کام دے دیا اور