انوارالعلوم (جلد 16) — Page 552
29 انوار العلوم جلد ۱۶ نظام تو کامیاب نہیں ہو سکی سو اب یہ تقاضا کیا جاتا ہے کہ ان تمام ضروریات کو بھی گورنمنٹ پورا کرے۔وہ ہر شخص کو پہننے کے لئے کپڑا ، کھانے کے لئے غذا، رہنے کے لئے مکان اور علاج کے لئے دوا مہیا کرے اور اسلام بھی اس امر کو تسلیم کرتا ہے کہ یہ تمام کام حکومت کے ذمہ ہیں۔پس جب یہ تسلیم شدہ امر ہے کہ یہ کام حکومت کو کرنے چاہئیں اور جب اسلام بھی اسے تسلیم کرتا ہے تو یہ درست ہے کہ یا تو اسلام ہمیں یہ بتائے کہ زکوۃ کا روپیہ یہ تمام ضرورتیں پوری کر سکتا ہے اور یا ز کوۃ کے علاوہ کوئی اور علاج جو اسلام نے اس مصیبت کا کیا ہو پیش کیا جائے۔غرباء کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے زکوۃ یہ ایک اہم سوال ہے جو اس موقع پر پیدا ہوتا ہے اور جس کی طرف توجہ کرنا کے علاوہ دوسرے چندوں کی ضرورت ہمارے لئے نہایت ضروری ہے۔اگر ہمارا یہ دعوی نہ ہوتا کہ اسلام ان تمام ضروریات کو پورا کرنے کا ذمہ دار حکومت کو قرار دیتا ہے تو یہ سوال ہی پیدا نہ ہوتا مگر جب ہم تسلیم کرتے ہیں کہ اسلام ہی وہ مذہب ہے جس نے یہ تعلیم دی کہ غریب اور امیر میں حقیقی مساوات قائم کرنی چاہئے اور ان دونوں کو اس حد تک ایک دوسرے کے قریب کر دینا چاہئے کہ یہ محسوس نہ ہو کہ وہ کوئی اور مخلوق ہے اور یہ کوئی اور مخلوق ہے بلکہ جس طرح اُمراء اپنی ضرورتوں کو پورا کرتے ہیں اسی طرح غرباء بھی اپنی ضرورتوں کو پورا کریں وہ علاج کے بغیر نہ رہیں ، وہ بھو کے نہ رہیں ، وہ ننگے نہ رہیں ، وہ جاہل نہ رہیں ، وہ بغیر مکان کے نہ رہیں تو پھر ضروری ہو جاتا ہے کہ اس مشکل کا حل اسلامی تعلیم سے ہی کیا جائے۔زکوۃ کا اسلام نے حکم دیا تھا مگر میں تسلیم کر چکا ہوں کہ زکوۃ اِس مشکل کا پورا علاج نہیں پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسلام اس کمی کا کیا علاج تجویز کرتا ہے۔سوشلزم کے نظریہ کی رو سے غرباء کی ضروریات کو پورا سوشلزم اس کا ذریعہ یہ بتاتی ہے کہ مزدوروں کا کرنے کا پہلا ذریعہ اور اس کے غلط ہونے کا ثبوت حصہ منافع میں مقرر کیا جائے یہ نہ ہو کہ انہیں ماہوار تنخواہ دی جائے کسی کو کم اور کسی کو زیادہ بلکہ منافع پر ان کا انحصار ہونا چاہئے یعنی جب منافع حاصل ہو تو فیصلہ کیا جائے کہ اس دفعہ ہمیں اتنی آمد ہوئی ہے اس میں سے مالک کو اتنا