انوارالعلوم (جلد 16) — Page 551
انوار العلوم جلد ۱۶ نظام تو رہ جائے گی لیکن اسلامی طریق میں بغاوت کا کوئی امکان نہیں ، سُستی ہو تو ہو کیونکہ یہ ایک طبعی بات ہے۔ملک کے اموال پر حکومت کو اقتدار حاصل ہونے کی ضرورت اب میں اس اہم سوال کی طرف آتا ہوں جو درحقیقت میرے مضمون کی بنیاد ہے مگر اس سے پہلے ایک سوال ابھی باقی ہے جس کا حل کرنا ضروری ہے اور وہ یہ کہ ہم اُوپر کی تمام نئی تحریکات سے اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ تمام تحریکات با وجود اختلاف کے اس امر میں متفق ہیں کہ حکومت کو ملک کے مال پر ایک بہت بڑا اقتدار حاصل ہونا چاہئے۔پرانے ٹیکس اس سکیم کو پورا نہیں کر سکے جو ان مختلف نظام والوں کے ذہن میں ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ اب نئے ٹیکس لگائے جائیں ، نئے نئے طریق ایجاد کئے جائیں جن سے اُمراء کی دولت اُن کے ہاتھ سے نکالی جاسکے اور غرباء میں تقسیم کی جاسکے پس وہ کہتے ہیں کہ اگر غریبوں کی ضرورتیں پوری کرنی ہیں تو ٹیکس بڑھانے پڑیں گے موجودہ ٹیکسوں سے یہ مشکل حل نہیں ہو سکتی اب سوال یہ ہے کہ اسلام نے اس بارہ میں کیا رویہ اختیار کیا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ تم نے زکوۃ کی تعلیم نکالی ہے مگر کیا تمہارے نزدیک زکوۃ اس غرض کو پورا کر سکتی ہے کہ ہر غریب کو کپڑا ملے ، ہر غریب کو کھا نا ملے ، ہر غریب کو مکان ملے اور ہر غریب کو دوا ملے؟ میرا دیانتدارانہ جواب یہ ہے کہ نہیں۔یعنی میرا دیانتدارانہ جواب یہ ہے کہ اس زمانہ کے لحاظ سے یقیناً حکومت کے ہاتھ میں اس سے زیادہ روپیہ ہونا چاہئے جتنا روپیہ پہلے اس کے ہاتھ میں زکوۃ وغیرہ کی صورت میں ہوا کرتا تھا۔پہلے گورنمنٹ پر صرف یہ ذمہ داریاں تھیں کہ وہ ٹیکس وصول کر کے سڑکیں بنائے ، ہسپتال بنائے، مدرسے بنائے ، فوجیں رکھے اور اسی طرح رعایا کی بہبودی کے لئے اور تدابیر عمل میں لائے مگر اب یہ ایک نئی ذمہ داری بھی گورنمنٹ پر عائد ہوتی ہے کہ دنیا نے اپنے طور پر غریبوں کو کھا نا کھلا کر دیکھ لیا کہ وہ اسے نہیں کھلا سکی ، دنیا نے اپنے طور پر غریبوں کو کپڑے پہنا کر دیکھ لیا کہ وہ ان کی اس ضرورت کو پورا نہیں کرسکی ، دُنیا نے اپنے طور پر ان کے لئے دو مہیا کرنے کی کوشش کر لی مگر اس میں وہ 2^