انوارالعلوم (جلد 16) — Page 547
انوار العلوم جلد ۱۶ نظام تو نہ کرو اور اگر جمع کرو تو اس پر اڑھائی فیصدی ہمارا ٹیکس دو۔اس طرح اسلام جمع ھدہ روپیہ پھر قوم کے غرباء کی طرف واپس لاتا ہے تا کہ وہ اس سے فائدہ اُٹھا سکیں اور وہ مجبور کرتا ہے کہ لوگ اپنے روپیہ کو پھیلا ئیں اور پھیلاتے چلے جائیں۔اگر اسلام کے احکام پر عمل ہونے لگے تو بخیل سے بخیل شخص کے روپیہ سے بھی دنیا فائدہ اُٹھانے لگ جائے اور غریبوں کو مزدوری وغیرہ مل جائے اور اڑھائی فیصدی روپیہ الگ آ جائے۔اسلام میں شخصی ملکیت کے حق کا تحفظ مگر یہ یاد رکھنا چاہئے کہ اسلام نے باوجود مال کو سب کا حق قرار دینے کے شخصی ملکیت کے حق کو ر ڈ نہیں کیا بلکہ اسے قائم رکھا ہے البتہ شخصی ما لک بطور ایجنٹ کے رہے گا اور علاوہ اس کے اس طاقت کو جو اسے ملکیت کی وجہ سے حاصل ہوتی ہے اسلام نے مناسب تدبیروں سے کمزور کیا ہے جیسا کہ اوپر کے احکام سے ظاہر ہے۔بالشویک نظام پر اسلامی نظام کو اس جگہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیوں اس نظام پر بالشویک نظام کو ترجیح نہ دی جائے۔ترجیح دیئے جانے کی وجوہات اس کا جواب یہ ہے کہ نظام کی اصل غرض امن اور انصاف اور روح ترقی کا قائم رکھنا ہوتی ہے مگر بالشویک نظام حالات میں ایسا فوری تغیر پیدا کرتا ہے جو ملک کے ایک طاقتور حصہ کو نا قابلِ برداشت نقصان پہنچا دیتا ہے اور وہ مقابلہ کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔مثلاً یہ کہنا کہ ہر ایک مالدار کا مکان لے لو، اُس کی جائداد اُس سے چھین لو ، اس کے مال کو ضبط کر لو یہ انسان کو ایسا صدمہ پہنچاتا ہے جو اس کے لئے ایک نا قابل برداشت بوجھ بن جاتا ہے۔چنانچہ روس کی سب سے زیادہ مخالفت خود روسی کر رہے ہیں اور ہر ملک میں ایسے روسی موجود ہیں جو اس نظام کے شدید ترین مخالف ہیں۔میں نے خود سفر یورپ کے دوران میں ایسے روسیوں کو دیکھا جو روسی حکومت کے جان کے دشمن ہیں اور اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ آرام سے اپنے اپنے مکانوں میں بیٹھے تھے کہ یکدم حکومت کے نمائندے آئے اور انہوں نے ان کے بستروں اور پلنگوں اور سامانوں پر قبضہ کر لیا، انہیں مکانات سے نکال دیا، ان کا مال واسباب ضبط کر لیا اور انہیں ان کی جائداد سے بے دخل کر دیا۔یہ مان لیا کہ انہوں نے جو کچھ کمایا تھا اس میں دوسروں کے حقوق بھی شامل تھے مگر نسلاً بعد نسل وہ یہ خیال رکھنے کے عادی ہو چکے تھے کہ یہ سب کچھ