انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 548 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 548

۷۵ انوار العلوم جلد ۱۶ نظام تو ہمارا ہے اس لئے طبعاً جب جبری طور پر ان کی جائدادوں اور اموال واسباب پر قبضہ کیا گیا تو وہ انہیں شدید ناگوار ہوا اسی وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو ملکیتیں پرانی ہو چکی ہیں ان کو ہم نہیں توڑیں گے یعنی اس قسم کا سلوک ان سے نہیں کریں گے کہ انہیں یہ محسوس ہو کہ ہم پر ظلم کیا جا رہا ہے۔بالشوزم کا اس امر کو نظر انداز کر دوسرے بالشویک نظام اس امر کو نظر انداز کر دیتا ہے کہ جس طرح مال سرمایہ ہے دماغ بھی سرمایہ دینا کہ دماغ بھی سرمایہ ہے ہے اور اس سرمایہ کو وہ کس طرح تقسیم کر سکتا ہے یہ نظام دماغی قابلیت کو بالکل بر باد کر دیتا ہے کیونکہ وہ دماغی قابلیت کی اتنی قیمت نہیں سمجھتا جتنی ہاتھ سے کام کرنے کی قیمت قرار دیتا ہے اور یہ ایک طبعی اصول ہے کہ ملک میں جس چیز کی قیمت نہ رہے گی وہ رکرنی شروع ہو جائے گی۔جن لوگوں کے نزدیک روپیہ کی کوئی قیمت نہیں ہوتی ان کا روپیہ ضائع ہو جاتا ہے اور جن لوگوں کے نزدیک جائداد کی کوئی قیمت نہیں ہوتی ان کی جائداد ضائع ہو جاتی ہے اسی طرح جن لوگوں کے نزدیک دماغ کی کوئی قیمت نہیں ہوتی اُن کا دماغ رگر نا شروع ہو جاتا ہے۔پس بالشویک نظام میں یہ ایک بہت بڑا نقص ہے کہ وہ مال کو تو سرمایہ قرار دیتا ہے مگر دماغ کو سرمایہ قرار نہیں دیتا کیونکہ وہ مال تقسیم کر سکتا ہے مگر اسے تقسیم نہیں کر سکتا اس طرح اس کے اصول کے مطابق دماغ بے قیمت رہ جاتا ہے اور اس کی وجہ سے ایک دن اس کی نشو ونما میں بھی فرق آ جائے گا مگر اسلام ہر قدم تدریجاً اُٹھاتا ہے وہ یکدم تغیر نہیں کرتا بلکہ محبت اور پیار سے ہر قسم کا سرمایہ لوگوں پر خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے اور اس طرح دماغ اور مال دونوں کو تقسیم کرا دیتا ہے۔نیچر کی گواہی بھی بالشویک اصول کے خلاف ہے کیونکہ نیچر دماغی طاقتیں بعض کو زیادہ دیتی ہے اور بعض کو کم مگر اس کے بعد انصاف کو اس طرح قائم رکھا جاتا ہے کہ جن کو دماغ ملا ہے انہیں مذہب حکم دیتا ہے کہ وہ اپنے دماغ کو بھی بنی نوع انسان کی خدمت میں خرچ کریں چنا نچہ قرآن کریم فرماتا ہے وَمِمَّا رَزَقْنهُم يُنفِقُونَ اسے یعنی مومن اور سچے متقی وہی ہیں کہ اللہ کی طرف سے جو کچھ بھی ان کو ملا ہے خواہ دماغ ہو، خواہ جسمانی طاقت ہو ، خواہ مال ہو، خواہ عقل ہوا سے دوسری مخلوقات کی خدمت میں خرچ کریں۔اسی طرح مال کی نسبت اسلام کہتا ہے کہ وہ اسے تقسیم کرا دیتا ہے مگر بالشویک نظام کی طرح جبر اور ظلم سے نہیں بلکہ انہیں کے او