انوارالعلوم (جلد 16) — Page 487
انوار العلوم جلد ۱۶ نظام تو ہمالیہ پہاڑ کے دامن میں کسی غریب عورت کا بچہ بھوک سے مر رہا ہے، یا شہروں میں رہنے والوں کو کیا علم ہو سکتا ہے کہ گاؤں میں غرباء پر کیا مشکلات آ رہی ہیں لیکن حکومت ان تمام باتوں کا بآسانی علم رکھ سکتی ہے۔پس انہوں نے فیصلہ کیا کہ یہ کام حکومت کو اپنے ذمہ لینا اہئے لیکن حکومت میں بادشاہ اور وزراء کے علاوہ دوسرے لوگوں کا بھی دخل ہونا ضروری ہے تا کہ سب کی آواز مرکز میں پہنچ سکے اور مرکز کو ان کے ذریعہ تمام حالات کا علم حاصل ہوتا رہے اس کے مطابق پہلے چھوٹے چھوٹے تغیرات کئے گئے۔مثلاً کہا گیا کہ بادشاہ کو گھر بیٹھے کیا پتہ ہوسکتا ہے کہ شاہ پور کے زمینداروں کی کیا ضروریات ہیں ہاں شاہ پور کے زمیندار اپنی ضرورتوں کو خوب جانتے ہیں۔یا بادشاہ کو گھر بیٹھے جھنگ کے لوگوں کی مشکلات کا علم نہیں ہوسکتا مگر جھنگ کے لوگ خوب جانتے ہیں کہ انہیں کیا کیا مشکلات درپیش ہیں پس حکومت کے مرکز تک لوگوں کی آواز پہنچانے کا کوئی انتظام ہونا چاہئے۔ڈیما کریسی کے ماتحت پہلا تغیر پس پہلا غیر ڈیماکریسی کے ماتحت اس رنگ میں ہوا کہ جمہور نے مطالبہ کیا کہ حکومت میں ہمارا بھی حق ہے تا کہ ہم اپنے اپنے علاقوں کی ضروریات بتا سکیں اور ان کے متعلق حکومت کو مفید مشورہ دے سکیں۔کچھ عرصہ تک یہ طریق رائج رہا اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس طریق عمل سے فائدہ ہوا۔آخر بادشاہ سب کے حالات معلوم نہیں کرسکتا تھا اس طریق کے مطابق لوگوں کے نمائندے آتے ، حالات بتاتے ، حکومت کو مشورہ دیتے اور مطمئن ہوکر واپس چلے جاتے۔ڈیما کریسی کے ذریعہ حقوق کا تحفظ اور اس ابتدا میں یہ نمائندے زیادہ تر زمیندار طبقہ سے تعلق رکھتے تھے اس کیلئے تاجروں اور پیشہ وروں کی جد وجہد لئے وہ زمینداروں کے حقوق کے متعلق ہی باتیں کیا کرتے تھے۔بڑے بڑے زمیندار آتے اور بڑے بڑے لوگوں سے تعلق رکھنے کی وجہ سے اپنی قوم کو زیادہ فائدہ پہنچاتے۔اس پر ایک نئی تحریک شروع ہوئی جو تاجروں اور پیشہ وروں کی تھی اور اس تحریک کے بانیوں نے اپنا کام تاجروں اور حرفہ والوں کے حقوق کی نگہداشت قرار دیا۔چنانچہ اس تحریک کے نتیجہ میں جو لبرل ازم (LIBERALISM) کہلاتی ہے تاجروں ۱۴