انوارالعلوم (جلد 16) — Page 429
انوار العلوم جلد ۱۶ افتتاحی تقریر جلسه سالانه ۱۹۴۲ء بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيم افتتاحی تقریر جلسه سالانه ۱۹۴۲ء تقریر فرموده ۲۵ دسمبر ۱۹۴۲ء بر موقع جلسه سالانه ) تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: - میں اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا نہیں کر سکتا اِس امر پر کہ اُس نے باوجود ہماری کوششوں کی کوتا ہی اور ہماری تدابیر کی خامیوں کے جماعت احمدیہ کی روز افزوں ترقی کا سلسلہ اس سال بھی اپنے فضل وکرم سے جاری رکھا اور زندہ جماعتوں کی طرح آج جبکہ ہم پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشاد کے ماتحت اسلام کی خدمت کے لئے جمع ہوئے ہیں اللہ تعالیٰ کی سنت قدیمہ کے مطابق ہماری جماعت کی تعداد اُس سے زیادہ ہے جتنی کہ پچھلے سال تھی۔کئی نئی بستیاں اور نئے علاقے خدا تعالیٰ نے احمدیت کے لئے فتح کئے ہیں اور جہاں پہلے احمدیت کا کوئی نام لیوا نہ تھا اب وہاں احمدیت پر ایمان رکھنے والے لوگ موجود ہیں اور جب تک اللہ تعالیٰ کا فضل رہے گا یہ سلسلہ جاری رہے گا اور جماعت کی روز افزوں ترقی ہوتی چلی جائے گی۔ہماری کوششیں تو محض رسمی طور پر اپنی عقیدت کا اظہار ہوتی ہیں ورنہ نتائج تو صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی ظاہر ہورہے ہیں ہمیں صرف اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم ان وعدوں پر یقین کر لیں جو خدا تعالیٰ نے احمدیت کے متعلق فرمائے ہیں۔ان وعدوں پر یقین کر لینے سے ہمارے کام اور ہمارے عزم میں آپ ہی آپ ایک نمایاں فرق پیدا ہوتا چلا جائے گا۔چین کا مصلح جسے ہم قرآن کریم کی اجمالی تعلیم کی روشنی میں نبی سمجھتے ہیں مجھے اُس کا ایک فقرہ بتغیر الفاظ احمدی جماعت کے لئے ایک مشعل راہ معلوم ہوتا ہے کسی نے کنفیوشس سے پوچھا کہ آپ سب سے زیادہ اہم مقصد اپنے سامنے کیا رکھتے ہیں؟ انہوں نے کہا ناموں کی طرف توجہ دلانا۔پوچھنے والے نے کہا اس میں