انوارالعلوم (جلد 16) — Page 430
انوار العلوم جلد ۱۶ افتتاحی تقریر جلسه سالانه ۱۹۴۲ء اہمیت کی کونسی بات ہے؟ انہوں نے کہا ساری اہمیت اسی میں ہے اگر دنیا میں بادشاہ اپنے نام ”بادشاہ کو یاد رکھیں اور رعایا اپنے نام رعایا کو یادر کھے، باپ اس بات کو یادر کھے کہ وہ باپ کہلاتا ہے اور بیٹا اس بات کو یادر کھے کہ اُس کا نام بیٹا ہے، اُستاد اس بات کو یادر کھے کہ میرا نام اُستاد ہے اور شاگرد اس بات کو یاد رکھے کہ اُس کا نام شاگرد ہے تو یقیناً دنیا کی اصلاح ہو جائے گی۔ساری خرابی اسی وجہ سے پیدا ہوئی ہے کہ بادشاہ اپنے آپ کو بادشاہ نہیں سمجھتا بلکہ ڈا کو خیال کرتا ہے اور رعایا اپنے آپ کو رعایا نہیں سمجھتی بلکہ باغی خیال کرتی ہے، باپ اپنے آپ کو باپ نہیں سمجھتا بلکہ مستغنی سمجھتا ہے اور اولاد اپنے آپ کو اولاد نہیں بجھتی بلکہ آزاد جماعت خیال کرتی ہے۔میرا بھی یہ خیال ہے کہ ہماری جماعت کی ساری ترقی کی جڑ اس بات سے تعلق رکھتی ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے وعدوں کو یاد رکھیں ، ہمیں کسی نئے مقصد کو معلوم کرنے کی ضرورت نہیں ، ہمیں کسی نئے مقصد کو دریافت کرنے کی ضرورت نہیں۔وہ سارے مقاصد جو ہمیں مدنظر رکھنے چاہئیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات میں بیان ہو چکے ہیں اور خدا تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کر دیا ہے کہ ہمارا کیا مقصد ہے۔اب اگر ہم مثلاً کوئی جلسہ کریں جس میں تبلیغ کے مسئلہ پر غور کریں اور اس غرض کے لئے کوئی ایک میدان تجویز کرلیں تو یہ بالکل فضول بات ہوگی کیونکہ خدا تعالیٰ نے اس مقصد کو ہمارے سامنے پہلے ہی رکھا ہوا ہے اور پہلے سے اُس نے کہہ دیا ہے کہ: ” میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔“ لے پس مقصد ہمارے سامنے موجود ہے کوئی خاص علاقہ یا کوئی خاص ملک تبلیغ کے لئے تجویز کرنے کا سوال نہیں خدا تعالیٰ نے ہمارا یہ مقصد قرار دیا ہے کہ ہم دنیا کے کناروں تک اسلام اور احمدیت کی تبلیغ پہنچائیں۔اسی طرح اور تمام مقاصد جو اس وقت ہمارے سامنے ہیں وہ سارے کے سارے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات میں اُن اعلیٰ مقامات تک بیان کر دیئے گئے ہیں جن تک کسی زمانہ میں جماعت احمدیہ پہنچے گی۔مثلاً تبلیغ کا ایک پہلو تو یہ بیان فرمایا کہ ” میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا اور دوسری طرف یہ بیان فرمایا کہ ” بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔گویا پہلے الہام میں تو تبلیغ کے علاقہ کی وسعت کا ذکر کیا اور دوسرے الہام میں ارتفاع مدارج کا ذکر کر دیا یعنی احمدیت کی تبلیغ گر دو پیش تک ہی محدود نہیں رہنی چاہئے بلکہ ساری دنیا میں ہونی چاہیئے نیز صرف غرباء اور عوام میں ہی نہیں ہونی چاہئے بلکہ نڈر ہو کر بادشاہوں کو تبلیغ کرنی 66 ،،