انوارالعلوم (جلد 16) — Page 286
انوار العلوم جلد ۱۶ بعض اہم اور ضروری امور پڑھتی۔اولاد کو نماز کا پابند بنانا بھی اشد ضروری ہے اور نہ پڑھنے پر ان کو سزا دینی چاہئے۔ایسی صورت میں بچوں کا خرچ بند کرنے کا تو حق نہیں ہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ میں خرچ تو دیتا رہوں گا مگر تم میرے سامنے نہ آؤ جب تک نماز کے پابند نہ ہو۔ہاں اگر کوئی بچہ کہہ دے کہ میں مسلمان نہیں ہوں تو پھر البتہ حق نہیں کہ اُس پر زور دیا جائے لیکن اگر وہ احمدی اور مسلمان ہے تو پھر اسے سزا دینی چاہئے اور کہہ دینا چاہئے کہ آج سے تم ہمارے گھر میں نہیں رہ سکتے جب تک کہ نماز کے پابند نہ ہو جاؤ۔تیسری چیز وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ " یعنی اللہ تعالیٰ نے جو کچھ دیا ہے اس میں سے خرچ کیا جائے۔خدا تعالیٰ کی دی ہوئی پہلی چیز جذبات ہیں۔بچہ جب ذرا ہوش سنبھالتا ہے تو محبت اور پیار اور غصہ کو محسوس کرتا ہے، خوش ہوتا اور ناراض ہوتا ہے، پھر پیدائش سے بھی پہلے اللہ تعالیٰ نے انسان کو آنکھیں ، ناک، کان اور ہاتھ پاؤں دیئے ہیں۔پھر بڑا ہونے پر علم ملتا ہے، طاقت ملتی ہے ان سب میں سے تھوڑا تھوڑا خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کا مطالبہ ہے۔علم ، روپیہ، عقل، جذبات اور اپنی طاقتیں خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کا حکم ہے یہ مطالبہ ایسا وسیع ہے کہ اس کی تفصیل کے لئے کئی گھنٹے درکار ہیں اور اس پر ہزار صفحہ کی کتاب لکھی جا سکتی ہے مگر کتنے لوگ ہیں جو اس کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔بہت سے ہیں جو تھوڑا بہت صدقہ دے کر سمجھ لیتے ہیں کہ اس مطالبہ کو پورا کر دیا۔حالانکہ یہ بہت وسیع ہے۔جہاد کا حکم بھی اسی کا ایک مجزو ہے۔بعض امراء صدقہ دے دیتے ہیں، کچھ پیسے خرچ کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اس حکم کی تعمیل کر دی حالانکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کی دی ہوئی بہت سی چیزوں میں سے ایک کو خرچ کر دیا مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ سب کچھ جو تمہیں دیا گیا ہے ان سب میں سے کچھ کچھ خرچ کرو۔ہماری تائی صاحبہ تھیں اتنی پچاسی سال کی عمر میں سارا سال روئی کو کٹوانا ، پھر اٹیاں بنانا ، پھر جلا ہوں کو دے کر اُس کا کپڑا بنوانا اور پھر رضائیاں اور تو مشکلیں بنوا کر غریبوں میں تقسیم کرنا اُن کا دستور تھا اور اس میں سے بہت سا کام وہ اپنے ہاتھ سے کرتیں۔جب کہا جاتا کہ دوسروں سے کرا لیا کریں تو کہتیں اس طرح مزا نہیں آتا۔تو اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہر چیز کو خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کا حکم ہے مگر کتنے لوگ ہیں جو ایسا کرتے ہیں؟ بعض لوگ چند پیسے کسی غریب کو دے کر سمجھ لیتے ہیں کہ اس پر عمل ہو گیا حالانکہ یہ درست نہیں۔جو شخص پیسے تو خرچ کرتا ہے مگر اصلاح وارشاد کے کام میں حصہ نہیں لیتا وہ نہیں کہہ سکتا کہ اُس نے اس حکم پر عمل کر لیا ہے یا جو یہ کام بھی کرتا ہے