انوارالعلوم (جلد 16) — Page 194
اللہ تعالیٰ ، خاتم النبیین اور امام وقت۔انوار العلوم جلد ۱۶ علیہ وسلم سے فیض پا کر نبوت کا مقام پاتا ہے اور جس کے بارہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نبی کہہ کر خبر دی ہے۔اور ایک وہ جماعت اولیاء ہے جو اوپر کی تعریف میں نہیں آتی۔اور نبی والی صفت یعنی کثرت امور غیبیہ ان میں نہیں پائی جاتی۔صرف مکالمات و مخاطبات سے مشرف ہوتی ہے اس میں نبیوں کا سارنگ تو ہوتا ہے مگر وہ حقیقتا نبی نہیں ہوتی۔اس حقیقت کا انکار کون کرتا ہے؟ ہمارا تو اس کے ایک ایک لفظ پر ایمان ہے مولوی صاحب ہی ہیں جو صرف حوالہ کے آخری حصہ پر ایمان رکھتے ہیں اور نقل کرتے وقت وہی حصہ نقل کرتے ہیں پہلا چھوڑ جاتے ہیں۔ہم سارے حوالہ پر ایمان رکھتے ہیں اور مانتے ہیں کہ اس اُمت میں ایک وہ بھی ہے جو ایک جہت سے امتی اور ایک جہت سے نبی ہے۔اور وہ لوگ بھی ہیں جو صرف محدث ہیں اور نبیوں کا سا رنگ دیئے جاتے ہیں مگر نبی نہیں ہوتے۔یہ حوالہ بالکل ویسا ہی ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام حقیقۃ الوحی میں فرماتے ہیں۔اس اُمت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی برکت سے ہزار ہا اولیاء ہوئے ہیں۔اور ایک وہ بھی ہوا جو اُمتی بھی ہے اور نبی بھی۔‘۹۳ یا اسی طرح فرماتے ہیں :- وو اور خود حدیثیں پڑھتے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں اسرائیلی نبیوں کے مشابہہ لوگ پیدا ہو نگے۔اور ایک ایسا ہوگا کہ ایک پہلو سے نبی ہوگا اور ایک پہلو سے اُمتی ، وہی مسیح موعود کہلائے گا۔۹۴ دیکھو حقیقۃ الوحی کا یہ حوالہ بالکل مواہب الرحمن کا ترجمہ معلوم ہوتا ہے۔اس میں بھی ایک امتی نبی کی خبر دی گئی ہے اور اس میں بھی کہا گیا ہے کہ نبی وہی ہوسکتا ہے جس کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہو۔اس میں بھی بتایا ہے کہ ایک ایسے شخص کی بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے جو ایک پہلو سے اُمتی اور ایک پہلو سے نبی ہوگا اور وہی مسیح موعود کہلائے گا۔اور مواہب الرحمن میں بھی بتایا ہے کہ ایسے اولیاء بھی اِس اُمت میں ہیں کہ جو نبیوں کے رنگ میں رنگین ہیں لیکن نبی نہیں۔اور اس حوالہ میں بھی ہے کہ میرے سوا اور اولیاء بھی اس اُمت میں ہیں کہ جو بنی اسرائیلی نبیوں کے مشابہہ ہیں لیکن نبی کہلانے کے مستحق نہیں۔اس حوالہ کو پڑھ کر اور مواہب الرحمن کے حوالہ کے اس حصہ کو شامل کر کے جسے مولوی صاحب نے بغرض سہولت چھوڑ دیا