انوارالعلوم (جلد 16) — Page 184
انوار العلوم جلد ۱۶ اللہ تعالیٰ ، خاتم النبیین اور امام وقت۔علیہ وسلم کے فیض سے رسول ہوئے اور اس سے کسے انکار ہے اگر آپ کو بھی یہی اقرار ہو تو ہمارا آپ سے کوئی جھگڑا نہیں۔باقی رہا یہ سوال کہ بلکہ محدثیت کا ہے" کے الفاظ سے اور کسی دعوے کا انکار نکلتا ہے تو اس کا جواب میں پہلے دے آیا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ :- اگر خدا تعالیٰ سے غیب کی خبریں پانے والا نبی کا نام نہیں رکھتا تو پھر جتلاؤ کس نام سے اس کو پکارا جائے۔اگر کہو اس کا نام محدث رکھنا چاہئے تو میں کہتا ہوں تحدیث کے معنے کسی لغت کی کتاب میں اظہار غیب نہیں ہے۔،،، اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ اس وقت آپ پر یہ امر منکشف ہو چکا تھا کہ اظہار عَلَى الْغَيْبِ والے شخص کا مقام محدث کے مقام کے اوپر ہے پس اس انکشاف کے بعد بھی اگر مولوی صاحب پ ہم کو غافل رہنے کی تلقین کریں تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ یہ ایمان کا معاملہ ہے اس میں کسی کا لحاظ نہیں کیا جاسکتا۔اس کے علاوہ میں آپ کو مندرجہ ذیل حوالہ کی طرف بھی توجہ دلاتا ہوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ :- ”خدا تعالیٰ جس کے ساتھ ایسا مکالمہ مخاطبہ کرے کہ جو بلحاظ کمیت و کیفیت دوسروں سے بڑھ کر ہو اور اس میں پیشگوئیاں بھی کثرت سے ہوں اُسے نبی کہتے ہیں اور یہ تعریف ہم پر صادق آتی ہے پس ہم نبی ہیں۔“ ( بدر ۵ / مارچ ۱۹۰۸ء) جبکہ آپ کے نزدیک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نسبت جہاں جہاں نبی کا لفظ آتا ہے اس کے معنے محض محدث کے ہیں تو اِس حوالہ میں ذرا محدث کا لفظ رکھ کر دکھا دیجئے۔محدث کا لفظ اس جگہ رکھنے سے عبارت یوں ہو جاتی ہے۔” خدا تعالیٰ جس کے ساتھ ایسا مکالمہ و مخاطبہ کرے کہ جو بلحاظ کمیت و کیفیت دوسروں سے بڑھ کر ہو اور اس میں پیشگوئیاں بھی کثرت سے ہوں اُسے محدث کہتے ہیں اور یہ تعریف ہم پر صادق آتی ہے پس ہم محدث ہیں۔اب ذرا اس عبارت کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ فقرہ بھی ملاحظہ فرمائیے۔غرض اِس حصہ کثیر وحی الہی اور امور غیبیہ میں اس اُمت میں سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اِس اُمت میں سے گزر چکے ہیں اُن کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں