انوارالعلوم (جلد 16) — Page 171
اللہ تعالیٰ ، خاتم النبیین اور امام وقت۔انوار العلوم جلد ۱۶ لفظ اگر آپ کی نسبت کہیں استعمال ہوا ہے تو اس سے مراد غیر نبی ہے مگر بعد میں جب خدا تعالیٰ کی متواتر وحی نازل ہوئی تو آپ نے اس عقیدہ میں تبدیلی فرما دی۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں:۔اسی طرح اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اُس کو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا (یعنی اب اسے جزئی فضیلت قرار نہیں دیتا بلکہ گلی فضیلت قرار دیتا ہوں۔مرزا محمود احمد ) مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اُس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا مگر اس طرح سے کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے اُمتی (حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۴۹-۱۵۰) اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ آپ کسی زمانہ میں اس بناء پر کہ حضرت مسیح نبی ہیں اور آپ نبی نہیں حضرت مسیح پر اپنی فضیلت کو جزئی قرار دیتے رہے لیکن بعد میں جب اللہ تعالیٰ کی متواتر وحی نے جو بارش کی طرح ہوئی آپ کو نبی کہہ کر پکارا تو آپ نے اس جزئی فضیلت کے عقیدہ کو ترک کر دیا اور سمجھ لیا کہ چونکہ خدا تعالیٰ مجھے نبی قرار دیتا ہے اس لئے مسیح پر جو میری فضیلت کا ذکر الہامات میں آتا ہے وہ جزئی فضیلت نہیں بلکہ ہمہ نوع فضیلت ہے کیونکہ ایک نبی کو دوسرے نبی پر گلی وہ فضلیت ہو سکتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک اور حوالہ بھی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے مخالف آپ کے نبوت کے دعوی سے اپنے عقیدہ کی بناء پر اس دھوکا میں پڑ جاتے تھے کہ گویا آپ اسلامی شریعت منسوخ کرتے ہیں یا براہ راست نبوت کا دعوی کرتے ہیں آپ فرماتے ہیں۔یہ الزام جو میرے ذمہ لگایا جاتا ہے کہ گویا میں ایسی نبوت کا دعوی کرتا ہوں جس سے مجھے اسلام سے کچھ تعلق باقی نہیں رہتا اور جس کے معنی ہیں کہ میں مستقل طور پر اپنے تئیں ایسا نبی سمجھتا ہوں کہ قرآن شریف کی پیروی کی کچھ حاجت نہیں رکھتا اور اپنا علیحدہ کلمہ اور علیحدہ قبلہ بناتا ہوں اور شریعت اسلام کو منسوخ کی طرح قرار دیتا ہوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اقتداء اور متابعت سے باہر جاتا ہوں یہ الزام صحیح نہیں ہے۔“ ( مکتوب اخبار عام ۲۶ مئی ۱۹۰۸ ء )