انوارالعلوم (جلد 16) — Page 172
انوار العلوم جلد ۱۶ اللہ تعالیٰ ، خاتم النبین اور امام وقت۔غرض یہ امر ثابت ہے کہ عام مسلمان چونکہ اس عقیدہ پر قائم تھے کہ نبی اسے کہتے ہیں جو نئی شریعت لائے یا براہ راست نبوت پائے اور آپ کے نبی ہونے کے دعوی کو سن کر فوراً یہ سمجھنے لگتے تھے کہ آپ نے نئی شریعت یا نئے کلمہ کا دعویٰ کیا ہے آپ اُن کو سمجھانے کے لئے ان کے عقیدہ کو مد نظر رکھ کر استعارہ کا لفظ استعمال فرماتے تھے اور یہ امرحق ہے کہ دوسرے مسلمانوں کی تعریف نبوت کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ کے لئے نبی کے لفظ کا استعمال استعارہ ہی سمجھا جائے گا۔یعنی وہ اس حقیقت سے خالی سمجھا جائے گا جو عام مسلمانوں کے نزدیک نبوت میں پائی جاتی ہے۔اس موقع پر کہا جا سکتا ہے کہ یہ کیونکر معلوم ہوا کہ بعد میں کسی وقت خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نبی کی یہ تعریف نہ سمجھتے تھے کہ اس کے لئے شریعت جدیدہ کا لانا یا کسی دوسرے نبی کا متبع نہ ہونا ضروری ہے۔اور پھر یہ کہ جو تعریف نبی کی وہ سمجھتے تھے اس کے مطابق اپنے آپ کو سچ سچ کا نبی یقین کرتے تھے سو اس کے جواب میں اول تو میں وہ حوالہ جات پیش کرتا ہوں۔جن۔نبوت کی وہ تعریف معلوم ہوتی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نزدیک مسلم تھی اور اس کے بعد ثابت کرونگا کہ اس تعریف کے ماتحت آپ اپنے آپ کو نبی سمجھتے تھے۔پہلا حوالہ جو اس بارہ نبی کی تعریف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کے مطابق میں میں نقل کرتا ہوں وہ ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک نبی کی کیا تعریف ہے۔خدا تعالیٰ کی اصطلاح آپ فرماتے ہیں۔خدا کی یہ اصطلاح ہے جو کثرت مکالمات و مخاطبات کا نام اس نے نبوت رکھا ہے۔۲ قرآن کریم کی بیان کردہ تعریف : پھر فرماتے ہیں :- Ę جس کے ہاتھ پر اخبار غیبیہ منجانب اللہ ظاہر ہو نگے پا لضرورت اس پر مطابق آیت فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِہ کے مفہوم نبی کا صادق آئے گا۔اسلام کی اصطلاح میں نبی کی تعریف: پھر آپ فرماتے ہیں:۔ایسے شخص میں ایک طرف تو خدا تعالیٰ کی ذاتی محبت ہوتی ہے اور دوسری طرف بنی نوع کی ہمدردی اور اصلاح کا بھی ایک عشق ہوتا ہے۔ایسے لوگوں کو اصطلاح اسلام میں نبی اور رسول اور محدث