انوارالعلوم (جلد 16) — Page 585
انوار العلوم جلد ۱۶ ممبران پنجاب اسمبلی کو ایک مخلصانہ مشورہ جاتا اور حکومت کی تشکیل کا کام اُن کے سپرد کیا جا تا لیکن ملک معظم کے نمائندہ نے مناسب سمجھا کہ میجر ملک خضر حیات خاں کے سپرد یہ کام کریں مسلمان ممبروں کو اس موقع پر پورا حق حاصل تھا کہ وہ بہ اتفاق رائے یا کثرت رائے سے حکومت سے کہہ دیتے کہ انہیں میجر خضر حیات خاں کی سرداری پر اعتماد نہیں اگر وہ ایسا کرتے تو باوجود ہمارے خاندان اور ان کے خاندان کے کئی پشتوں کے تعلقات کے میں مسلمانوں کی عام رائے کے ساتھ ہوتا کیونکہ گو وزیر اعظم کے تقرر کا اختیار گورنر صاحب کو حاصل ہے لیکن اس پر اعتماد یا عدم اعتماد کے اظہار کا اختیار اسمبلی کے نمائندگان کو حاصل ہے۔ مگر میں نے سُنا ہے کہ یونینسٹ پارٹی جو اکثریت رکھتی ہے اُس نے میجر خضر حیات خاں صاحب پر اعتماد کا اظہار کر دیا ہے۔ اس کے بعد اسمبلی کا ایک ہی کام باقی رہ جاتا ہے کہ وہ اپنے ووٹ کی عزت کرے لیکن میں نے سُنا ہے کہ بعض وزارتوں اور سیکرٹری کے مہدوں کے بارہ میں اندر ہی اندر زبردست پرو پیگنڈا ہورہا ہے اور بعض لوگ اس بات پر بھی تیار ہیں کہ اگر ان کو عہدہ نہ ملا تو وہ پارٹی میں تفرقہ پیدا کرنے سے بھی نہ رکیں گے۔ اگر ایسا ہوا تو کیا ہوگا۔ فرانس کی طرح پنجاب اسمبلی میں بھی ان گنت پارٹیاں بن جائیں گی جن کی بنیاد کسی سیاسی اختلاف پر نہ ہوگی بلکہ ذاتی اغراض پر ہوگی اور پنجاب کی حکومت اس استقلال سے محروم ہو جائے گی جو اسے اب حاصل ہے کوئی حکومت چند ماہ سے زیادہ نہ چل سکے گی ۔ ممبروں کا وقت اس میں خرچ نہ ہوگا کہ ملک کے فائدے کے امور پر غور کریں بلکہ اپنے لئے مہدے طلب کرنے یا دوسروں کو عہدے پیش کرنے کے جوڑ توڑ میں سب وقت خرچ ہوگا اور پنجاب کا بھی وہی حال ہوگا جو فرانس کا ہوا ہے مگر فرانس نے کئی سو سال جوانی کی بہاریں دیکھی ہیں پنجاب اُن غنچوں میں ہوگا جو بن کھلے ہی مُرجھا جاتے ہیں ۔ کیا کوئی عقلمند یہ خیال کر سکتا ہے کہ دنیا کا کوئی وزیر اعظم وزراء يا نائب وزراء کا تقرر مجلس آئین ساز کےہر ممبر کو وزارت یا نائب وزارت دے سکتا ہے بلکہ نصف یا چوتھے یا دسویں یا بیسویں حصہ کو بھی وزارتیں دے سکتا ہے؟ ہر گز نہیں ۔ پھر پنجاب جو باوجود ملکی وسعت کے ابھی اس قدر سرمایہ کا مالک بھی نہیں جس کے بیلجیئم یا ناروے جیسے چھوٹے ملک مالک ہیں وہ اس تعیش کو کب برداشت کر سکتا ہے؟ ان حالات میں بلکہ ہر قسم کے حالات میں ایک ہی صورت ممکن ہے کہ پارٹی وزیر اعظم کے انتخاب میں تو بے شک دخل دے لیکن جب کوئی وزیر اعظم چنا جائے تو باقی عُہدوں کے انتخاب کو کلی طور پر اُس پر چھوڑ دے۔ اگر اس کا انتخاب کامیاب ہو تو فیھا ۔ اگر بعض عہدہ دار