انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 584 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 584

انوار العلوم جلد ۱۶ ممبران پنجاب اسمبلی کو ایک مخلصانہ مشورہ أعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هُوَ النَّاصِرُ ممبران پنجاب اسمبلی کو ایک مخلصانہ مشورہ تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: - برادران! سرسکندر کے خیالات اور پالیسی سے پنجاب میں امن قائم رکھنے کی اہمیت ہم میں سے بعض کو خواہ کس قدر ہی اختلاف ہو اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کی وفات سے پنجاب کی سیاسی فضا میں ایک زبر دست طوفان پیدا ہو گیا ہے اور صوبہ کا امن خطرہ میں پڑ گیا ہے۔ان خطرہ کے ایام میں سب سے زیادہ ضرورت ایک مضبوط حکومت کی ہے جو ایک طرف جنگ کے کام میں پوری طرح مدد کر سکے اور دوسری طرف ملک میں امن قائم رکھ سکے۔اس قسم کی حکومت تبھی قائم کی جاسکتی ہے جب کہ ہر ممبر اسمبلی اپنے ذاتی مفاد کو ملکی مفاد پر قربان کرنے کے لئے تیار ہو۔اگر یہ نہ ہوا تو پنجاب ان فسادات اور خرابیوں سے دوچار ہوگا جن سے ہندوستان کا کوئی اور صوبہ دوچار نہیں ہوا۔کیونکہ پنجاب ہندوستان کا میگزین ہے اور مختلف زبر دست اقوام کا مسکن ہے جن میں سے بعض نہایت منظم ہیں جن میں ایک دفعہ خود سری پیدا ہوئی تو پھر انہیں اکٹھا کرنا مشکل ہوگا۔آپ لوگوں میں سے بہت سے لوگ جانتے ہیں کہ میرے تعلقات پنجاب کی حکومت سے گزشتہ سالوں میں اچھے نہیں رہے نہ بالا حکومت کے نمائندوں سے اور نہ منتخب نمائندگان سے۔اور اگر ملکی مفاد کا خیال نہ ہوتا تو میں اس وقت بالکل خاموش رہتا لیکن ملکی مفاد کا سوال اس وقت اس قدر اہمیت پکڑ گیا ہے کہ میں خاموش نہیں رہ سکتا۔میری ذاتی رائے یہ تھی کہ موجودہ مشکلات کے اختلاف و انشقاق کے خطرناک نتائج مد نظر سر فیروز خان صاحب نون کو پنجاب ملوایا