انوارالعلوم (جلد 16) — Page 559
۸۶ نظام تو انوار العلوم جلد ۱۶ فرانس کے امراء کا حال ہو ا وہی تمہارا ہو گا آخر عوام ایک دن تنگ آکر لوٹ مار پر اتر آئیں گے اور شاہ پوری محاورہ کے مطابق دعائے خیر پڑھ دیں گے۔حضرت خلیفہ اول اس محاورہ کی تشریح یہ بیان فرمایا کرتے تھے کہ ہمارے علاقہ میں کچھ مدت پہلے زمیندار پینے سے قرض لیتے چلے جاتے تھے اور بنیا بھی دیتا چلا جاتا تھا کچھ عرصہ تک تو انہیں اس کا احساس نہیں ہوتا تھا مگر جب سب علاقہ اس پیسے کا مقروض ہو جاتا اور زمینداروں کی سب آمد اس کے قبضے میں چلی جاتی تو یہ دیکھ کر اس علاقہ کا کوئی بڑا زمیندار تمام چوہدریوں کو اکٹھا کرتا اور کہتا کہ بتاؤ اس پیسے کا قرض کتنا ہے وہ بتاتے کہ اتنا اتنا قرض ہے۔اس پر وہ دریافت کرتا کہ اچھا پھر اس قرض کے اترنے کا کوئی ذریعہ ہے یا نہیں وہ جواب دیتے کہ ہمیں تو کوئی ذریعہ نظر نہیں آتا۔اس پر وہ کہتا کہ اچھا تو پھر دعائے خیر پڑھ دوچنانچہ وہ سب دعائے خیر پڑھ دیتے اور اس کے بعد سب ہتھیار لے کر پینے کے مکان کی طرف چل پڑتے اور اُسے قتل کر دیتے اور اس کی بھی اور کھاتے سب جلا دیتے۔جبری ٹیکسوں کے علاوہ زائد اموال خدا تعالیٰ کی اللہ تعالی اس آیت میں ایسی ہی حالت کی طرف راہ میں خرچ نہ کرنے کی وجہ سے قوموں کی ہلاکت اشارہ فرماتا ہے کہ دیکھو ہم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ اگر تمہارے پاس زائد مال ہو تو اُسے خدا تعالیٰ کے راستہ میں خرچ کر دیا کرو اور اپنی جانوں کو ہلاکت میں نہ ڈالو یعنی بے شک کماؤ تو خوشی سے مگر اس دولت کو اپنے گھر میں نہ جمع رکھا کرو ور نہ کسی دن لوگ تمہارے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے اور تم ہلاک ہو جاؤ گے۔پھر فرماتا ہے وَأَحْسِنُوا بلکہ اس سے بڑھ کر نیکی کرو اور وہ اس طرح کہ تم خود اپنی ضرورتوں کو کم کر کے اور مال بچا کر خدا تعالیٰ کی راہ میں دے دیا کرو مگر یاد رکھو کہ یہ عمل تم لوگوں سے ڈر کر نہ کرو بلکہ خوشی سے کر و۔اگر تم ڈر کر کرو گے تو غریبوں کی مدد تو ہو جائے گی مگر خدا خوش نہیں ہو گا لیکن اگر خوشی سے یہ قربانی کرو گے تو غریب بھی خوش ہوں گے ، تم بھی ہلاکت سے بچ جاؤ گے اور اللہ بھی تم پر خوش ہوگا۔پھر فرماتا ہے اِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ اگر تمہارے دل میں یہ خیال پیدا ہو کہ پھر ہماری کمائی کا صلہ ہم کو کیا ملا ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس کا صلہ مال سے زیادہ ملے گا اور وہ تمہارے پیدا کرنے والے خدا کی محبت ہے۔تمہاری دنیا کے ساتھ تمہاری آخرت بھی درست ہو جائے گی اور تم دونوں جہانوں میں آرام اور سکھ سے زندگی بسر کرو