انوارالعلوم (جلد 16) — Page 558
۸۵ انوار العلوم جلد ۱۶ نظام کو جبری طور پر دوسروں کے اموال اس کے مقابلہ میں جس شخص سے جبراً حکومت مال لے لے تم سمجھ سکتے ہو اس کے دل میں غریبوں کی پر جبراً قبضہ کرنے کے نقصانات محبت کہاں پیدا ہوگی۔حکومت کے کارندے تو اس سے جبر أمال وصول کر لیں گے مگر اس کے دماغ میں غریبوں کی دشمنی گھر کر جائے گی اور وہ ہر وقت یہی کہے گا کہ خدا اس حکومت کا بیڑا غرق کرے جو ہم پر ظلم کر رہی ہے اور خدا ان غریبوں کا بھی بیڑا غرق کرے جن کی وجہ سے ہم پر ظلم کیا جا رہا ہے۔دوسری طرف غریبوں کے دلوں میں بھی کوئی محبت پیدا نہیں ہوگی وہ کہیں گے امیر واقعہ میں بڑے ظالم تھے اچھا ہوا کہ حکومت نے ان کا مال واسباب لوٹ لیا لیکن اگر تحریص و ترغیب کے نتیجہ میں غرباء کی محبت کا احساس کرتے ہوئے کوئی شخص چند پیسے بھی دے تو اس کے دل میں غریبوں کی محبت پیدا ہوگی اور غریب بھی کہیں گے کہ فلاں شخص بڑا نیک ہے اللہ اس کے مال میں برکت دے وہ ہم غریبوں کا خیال رکھتا ہے۔تو چیز وہی ہو گی مگر ادھر امیروں کے دلوں میں غریبوں کی محبت پیدا ہو گی اور ادھر غریبوں کے دلوں میں امیروں کی محبت پیدا ہوگی اور دماغ کی نشو و نما بھی ہوتی رہے گی چنانچہ اسلام نے یہی طریق اختیار کیا ہے۔اسلام کا اُمراء سے جبری ٹیکسوں اس لئے اسلام نے زکوۃ اور عشر وغیرہ جبری ٹیکس بھی لگا دیئے اور اس کے ساتھ ہی یہ بھی کے علاوہ طوعی ٹیکسوں کا مطالبہ فرما دیا ہے کہ أَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا إنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ ۳۵ تُلْقُوا بِايْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ وَاَحْسِنُوا یعنی تم مقررہ ٹیکس بھی دو مگر اس کے علاوہ ہم تم سے بعض طوعی ٹیکس بھی مانگتے ہیں اور تمہارا فرض ہے کہ تم ان دونوں میں حصہ لو۔چنانچہ ہم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ اَنْفِقُوا فِي سَبِیلِ اللہ ہمیشہ غرباء کی امداد کے لئے روپیہ دیتے رہو۔وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ اور اپنے نفسوں کو ہلاکت میں مت ڈالو۔یعنی اے مالدارو! اگر تم اپنے زائد مال خوشی سے دے دو گے تو وہ تو زائد ہی ہیں تم کو کوئی حقیقی نقصان نہ پہنچے گا لیکن اگر ایسا نہ کرو گے تو ہلاک ہو جاؤ گے۔یہ الفاظ کہہ کر اللہ تعالیٰ نے رُوس کا پورا نقشہ کھینچ کر رکھ دیا ہے اور فرمایا ہے کہ اگر ایسا نہ کرو گے تو جو زار روس اور روسی امراء یا