انوارالعلوم (جلد 16) — Page 550
انوار العلوم جلد ۱۶ نظام تو دوسرے ممالک تو فائدہ اُٹھائیں گے مگر روس کو فائدہ نہیں ہو گا اور وہ سب آہستہ آہستہ دوسرے ممالک میں چلے جائیں گے ۔ اس وقت بالشویک نظام کی مقبولیت ایسی ہی ہے جیسے انجیل کی یہ تعلیم ہے کہ اگر کوئی تمہارے ایک گال پر تھپڑ مارے تو تم اپنا دوسرا گال بھی اس کی طرف پھیر دو جب تک یہ تعلیم محض باتوں تک رہے اُس وقت تک کانوں کو بڑی بھلی معلوم ہوتی ہے لیکن جب عمل کا وقت آئے تو اُس وقت کوئی شخص اس پر عمل نہیں کر سکتا۔ یہ ایک تاریخی واقعہ ہے کہ قاہرہ کے ایک بازار میں ایک دفعہ ایک مسیحی پادری نے روزانہ لیکچر دینے شروع کر دیئے کہ مسیح کی تعلیم محبت سے لبریز ہے کیونکہ وہ کہتا ہے کہ اگر تم ایک گال پر تھپڑ کھاؤ تو دوسرا بھی اس کی طرف پھیر دو مگر باقی مذاہب میں یہ ظلم ہے اور وہ ظلم ہے ۔ غرض اس طرح وہ تقریر کرتا کہ لوگوں کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے ایک مسلمان روزانہ اس کے لیکچر کو سنتا اور دل ہی دل میں اس بات پر گڑھتا کہ کوئی مولوی اس پادری کو جواب نہیں دیتا آخر کچھ عرصہ کے بعد جب اس نے دیکھا کہ لوگوں پر بُرا اثر ہو رہا ہے تو ایک دن ۔ دن جب وہ پادری وعظ کر رہا تھا وہ اس کے پاس گیا اور کہا کہ پادری صاحب ! میں نے آپ سے ایک بات کہ بات کہنی ہے اس نے بات سننے کے لئے اس کی طرف سر جھکا دیا کہ کہو کیا کہتے ہو ۔ اُس نے بجائے کوئی بات کہنے کے ہاتھ اُٹھایا اور زور سے اُس کے منہ پر تھپڑ مارا ۔ پہلے تو پادری رُکا مگر پھر اُس نے سمجھا کہ ایسا نہ ہو کہ یہ ایک اور تھپڑ لگا دے اِس پر اُس نے بھی اُسے مارنے کے لئے اپنا ہاتھ اُٹھا لیا۔ وہ کہنے لگا صاحب ! آپ یہ کیا کرتے ہیں آپ کی تعلیم تو یہ ہے کہ اگر کوئی ایک گال پر تھپڑ مارے تو دوسرا بھی اُس کی طرف پھیر دینا چاہئے میں تو اس انتظار میں تھا کہ آپ اپنا دوسرا گال بھی میری طرف پھیر دیں گے مگر آپ تو مقابلہ پر اتر آئے ہیں ۔ وہ کہنے لگا آج میں انجیل پر نہیں بلکہ تمہارے نبی کی تعلیم پر ہی عمل کروں گا۔ بالشوزم کے نتیجہ میں ملک میں بغاوت پیدا ہونے کا اندیشہ تو بعض تعلیمیں کہنے کو بڑی اچھی ہوتی ہیں مگر عملی رنگ میں وہ نہایت ہی ناقص ہوتی ہیں ۔ اسی طرح بالشوزم کے موجودہ نظام پر نہیں جانا چاہئے وہ اس وقت زار کے ظلموں کو یاد رکھے ہوئے ہے جس دن یہ خیال ان کے دل سے پھو لا پھر یہ طبعی احساس کہ ہماری خدمات کا ہم کو صلہ ملنا چاہئے ان کے دلوں میں پیدا ہو جائے گا نئی پود بغاوت کرے گی اور اس تعلیم کی ایسی شناعت ظاہر ہو گی کہ ساری دنیا حیران