انوارالعلوم (جلد 16) — Page 543
انوار العلوم جلد ۱۶ نظام نو ایک ہی حالت پر نہیں چلی آئی اور نہ آئندہ چلے گی کبھی فساد د ور نہ ہو گا۔ لوگوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ قوموں کو زیروزبر کرنے والے آتش فشاں مادے دنیا سے ختم نہیں ہو گئے نیچر جس طرح پہلے کام کرتی چلی آئی ہے اب بھی کر رہی ہے پس جو قوم دوسری قوم سے حقارت کا معاملہ کرتی ہے وہ ظلم کا ایک نہ ختم ہونے والا چکر لاتی ہے سے اُس وقت لوگ لیگ آف نیشنز کے قیام پر اتنے خوش تھے کہ جس کی کوئی حد ہی نہیں مگر میں نے زور دیا کہ جب تک تم یہ شرط نہ رکھو گے کہ جو حکومت غلطی کرے گی اُس سے سب حکومتیں مل کر لڑیں گی اُس وقت تک امن قائم نہیں ہو سکے گا مگر اس وقت یہی کہا گیا کہ ایسا نہیں ہو سکتا یہ تو صلح کی بجائے لڑائی کی بنیاد رکھنا ہے اور نہ صرف اس کی بلکہ ان سب اصول کی جو اسلام نے پیش کئے ہیں تمام موجودہ تحریکات جو نئے نظام کی مدعی ہیں مخالف رہی ہیں مگر اب بائیس سال دھکے کھا کر اسی طرف رجوع ہوا ہے جس کی خبر اسلام نے پہلے سے دے دی تھی اور مضامین لکھے جا رہے ا ہے میں کی خبر اسلام نے پہلے سے دے دی تھی اور ہیں کہ نئی لیگ کے قیام کے وقت یہ شرط رکھی جائے گی کہ اگر کوئی حکومت تصفیہ کی طرف مائل نہ ہو کے و تو اس سے جنگ کی جائے مگر اب بھی تم دیکھو گے کہ اگر وہ اسلامی نظام کی پوری پابندی نہ کریں گے تو نا کام ہی رہیں گے۔ غرباء کی تکالیف کو دور کرنے کے لئے اسلام میں چار احکام یہ اصول تو اہم قومی امن کے لئے ہیں اور بغیر بین الاقوامی صلح کے اندرونی صلح چنداں نفع بھی نہیں دیتی مگر چونکہ بین الاقوامی صلح کے ساتھ ہی اندرونی یعنی انفرادی اصلاح بھی ضروری ہے اس لئے اب میں یہ بتاتا ہوں کہ اسلام نے اندرونی اصلاح کے لئے کیا ذرائع تجویز کئے ہیں ۔ - پہلا حکم یعنی ورثہ کی تقسیم اس غرض کے لئے اسلام نے چار نظریے قائم کئے ہیں اور ان چاروں کی غرض یہ ہے کہ غرباء کی تکلیف دور ہو جائے اگر غور کیا جائے تو تمدن میں خرابی واقع ہونے کا ایک بہت بڑا سبب یہ ہوتا ہے کہ جائدادیں ، تقسیم نہیں ہوتیں نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ چند لوگوں کے قبضہ میں رہتی ہیں اور غرباء کو جائدادیں پیدا کرنے کا موقع نہیں ملتا ۔ اسلام نے اس نقص کو دور کرنے کے لئے ورثہ کے تقسیم کئے جانے