انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 524 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 524

انوار العلوم جلد ۱۶ نظام تو لڑائی ہو اور دن کے دوران میں ایک دوسرے کے قیدی پکڑے جائیں اور شام کو ان سب قیدیوں کو رہا کر دیا جائے اور کہہ دیا جائے کہ اب اپنے اپنے گھروں کو چلے جاؤ کل پھر ہم سے لڑائی کرنے کے لئے آجانا۔ہم تو دیکھتے ہیں کہ لوگ کبڈی کھیلتے ہیں تو اُس وقت بھی جن کھلا ڑیوں کو پکڑتے ہیں چھوڑتے نہیں بلکہ پکڑ کر بٹھا لیتے ہیں پھر کیسے ہو سکتا ہے کہ جنگ ہو اور جنگ کے بعد سب قیدیوں کو رہا کر دیا جائے۔اگر کبڈی تک نہیں کھیلی جا سکتی بغیر اس کے کہ جب کوئی شکست کھا جائے تو اسے پکڑ کر بٹھا دیا جائے تو جنگیں اس کے بغیر کس طرح ختم کی جاسکتی ہیں۔پس اسلام میں کوئی غلام نہیں مگر جنگی قیدی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے مَا كَانَ لِنَبِي أَنْ يَكُونَ لَه أَسْرَى حَتَّى يُفْخِنَ فِي الْأَرْضِ تُرِيدُونَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَاللهُ يُرِيدُ الْآخِرَةَ وَ اللهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ ١٨ یعنی کسی نبی کے لئے جائز نہیں کہ وہ یونہی لوگوں کو غلام بناتا جائے۔ان الفاظ کے ذریعہ نہ صرف خدا تعالیٰ نے یہ اعلان کیا کہ کسی انسان کو غلام بنانا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جائز نہیں بلکہ یہودیت ، عیسائیت اور ہندومت کی وجہ سے جو اعتراضات ان کے نبیوں پر عائد ہوتے تھے خدا تعالیٰ نے ان تمام اعتراضات کا بھی ازالہ کر دیا کیونکہ فرما یا مَا كَانَ لِنَسِي أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرى یعنی کسی نبی کے لئے بھی یہ جائز نہیں تھا کہ وہ یونہی لوگوں کو غلام بنا تا پھرتا۔پس نہ کرشن نے ایسا کیا نہ رام چندر نے ایسا کیا ، نہ موسیٰ اور عیسی نے ایسا کیا، جو لوگ ایسا کہتے ہیں وہ ان کی طرف جھوٹ منسوب کرتے ہیں۔ہاں فرماتا ہے کہ ایک چیز ہے جو جائز ہے وہ یہ کہ حَتَّى يُشْخِنَ فِي الْأَرْضِ اِنْحَان في الارض ہو تو اُس وقت قیدی بنانے جائز ہوتے ہیں یعنی جنگ ہو اور ایسی شدید ہو کہ اس میں خون کی ندیاں بہہ جائیں ، قوم قوم پر اور ملک ملک پر حملہ آور ہوا اور شدید خونریزی ہو ایسی حالت میں بے شک قیدی بنانے جائز ہیں مگر معمولی لڑائیوں میں بھی قیدی بنانے جائز نہیں جو مثلاً خاندانوں یا افراد میں ہوتی ہیں۔تُرِيدُونَ عَرَضَ الدُّنْيَا اے ہر وہ شخص جو چاہتا ہے کہ بغیر لڑائی کے لوگوں کو قیدی بنائے یا ان کو غلام بنائے۔دوسرے الفاظ میں تو یہ چاہتا ہے کہ تجھے دنیا مل جائے۔اگر تم ایسا کرو گے تو تم دنیا کے طلبگار سمجھے جاؤ گے خدا تعالیٰ کے طلبگار نہیں رہوگے وَاللهُ يُرِيدُ الْآخِرَةَ حالانکہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تم آخرت کے طلبگار بنو۔وَ اللهُ عَزِيزٌ حکیم اور اللہ غالب اور حکمت والا ہے۔اس کے تمام احکام بڑی بڑی حکمتوں پر مشتمل ہوا کرتے ہیں۔اگر غلام بناتے رہو گے تو نتیجہ یہ ہوگا کہ خود بھی غلام بن کر رہ جاؤ گے چنانچہ تاریخ بتاتی ہے کہ جن ۵۱