انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 37 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 37

انوار العلوم جلد ۱۶ سیر روحانی (۲) آپ نے فرمایا ، دیکھو پہلی قومیں یعنی یہود اور نصاریٰ اِس لئے تباہ ہوئیں کہ جب اُن میں سے کوئی بڑا آدمی جرم کرتا تو اُسے سزا نہ دیتے ، جب کوئی چھوٹا آدمی مُجرم کرتا تو اسے سزا دیتے۔مگر اسلام میں اس قسم کا کوئی امتیاز نہیں اور ہر شخص جو مجرم کرے گا اُسے سزا دی جائیگی خواہ وہ بڑا ہو یا چھوٹا۔۱۵ تمدنی معاملات میں مساوات کی اہمیت پھر اسلام نے مساوات کو تمدنی پہلو میں اتنی عظمت دی ہے کہ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ کوئی شخص آپ کے پاس دودھ بطور تحفہ لایا۔آپ نے کچھ دودھ پیا اور پھر خیال آیا کہ کچھ دودھ حضرت ابو بکر کو دیدوں کیونکہ وہ بھی اُس وقت مجلس میں موجود تھے اور پھر آپ کے رشتہ دار بھی تھے۔مگر آپ نے دیکھا کہ وہ دائیں طرف نہیں بیٹھے بلکہ بائیں طرف بیٹھے ہیں اور دائیں طرف ایک نو جوان بیٹھا ہے۔اسلام نے چونکہ دائیں طرف والے کا حق مقدم رکھا ہے اس لئے آپ نے اُس لڑکے سے کہا کہ اگر تم اجازت دو تو میں یہ دودھ ابو بکر کو دیدوں ؟ اس لڑکے نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! یہ میرا حق ہے یا آپ یونہی مجھ سے پوچھ رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا۔بات یہ ہے کہ دائیں طرف بیٹھنے کی وجہ سے اس دودھ پر تمہارا حق ہی ہے مگر میں تم سے اجازت چاہتا ہوں کہ اگر کہو تو ابو بکر کو دودھ دے دوں۔اُس نے کہا يَا رَسُولَ اللهِ ! جب یہ میرا حق ہے تو پھر آپ کے تبرک کو کوئی کس طرح چھوڑ سکتا ہے اور یہ کہہ کر اُس نے دودھ کا پیالہ آپ سے لیکر پینا شروع کر دیا۔مرض الموت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد و رول کر لی ا للہ علیہ وآلہ وسلم کا وسلم کا خود کریم صلی۔ایک واقعہ بتاتا ہے کہ کس طرح اسلام میں مساوات کا خیال رکھا جاتا ہے۔جب آپ کی وفات کا وقت قریب آیا تو صحابہ کو آپ نے بار بار خدا تعالیٰ کی وحی سے خبر دی اور بتایا کہ اب میرا زمانہ وفات نزدیک ہے۔اُس وقت ان پر ایک عجیب رقت طاری تھی اور دلوں میں سوز وگداز پیدا تھا۔ایک دن آپ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے صحابہ کونصیحتیں کرتے ہوئے فرمایا۔اے لوگو! اسلامی قانون کے لحاظ سے مجھ میں اور تم میں کوئی فرق نہیں ، اگر مجھ سے کوئی غلطی ہو گئی ہو تو مجھ سے بدلہ لے لو۔اور فرمایا کہ اس معاملہ میں اگر دنیا میں مجھے سزا مل جائے تو میں اسے زیادہ پسند کروں گا بہ نسبت اس کے کہ اس غلطی کے بارہ میں خدا تعالیٰ مجھ سے جواب طلبی کرے۔جب آپ نے یہ فرمایا تو ایک