انوارالعلوم (جلد 16) — Page 36
انوار العلوم جلد ۱۶ سیر روحانی (۲) لوگوں کو اس قسم کی آزادی عطا کی اور مساوات کا یہ حیرت انگیز ثبوت پیش کیا ہو کہ آزاد شدہ غلام کے بیٹے کو ایک لشکر جرار کا اُس نے سردار مقرر کیا اور اس لشکر میں بڑے بڑے جلیل القدر صحابہ بھی شامل ہوں۔پھر یہ نہیں کہ حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ نے اسامہ کے ماتحت جنگ کرنے میں کوئی ہتک محسوس کی ہو بلکہ وہ بڑی بشاشت اور خوشی کے ساتھ ان کی ماتحتی میں جنگ پر جانے کے لئے تیار ہو گئے ، بلکہ اس لشکر کو تو تاریخ اسلام میں ایسی عظمت حاصل ہوئی کہ اور کسی لشکر کو ایسی عظمت حاصل ہی نہیں ہوئی اور وہ اس طرح کہ یہ شکر ابھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روانہ نہیں فرمایا تھا کہ آپ وفات پا گئے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ منتخب ہو گئے۔آپ مجبوراً خلافت کی وجہ سے جنگ پر نہیں جا سکتے تھے ، مگر آپ از خود اس لشکر سے علیحدہ نہیں ہوئے بلکہ اسامہ کو لکھا کہ چونکہ مسلمانوں نے مجھے خلیفہ مقرر کیا ہے اس لئے مجھے اجازت دی جائے کہ میں مدینہ میں ہی رہوں چنانچہ انہوں نے اجازت دے دی۔پھر حضرت ابو بکڑ نے لکھ بھیجا کہ حضرت عمرؓ کا بعض ضروری معاملات میں مشورہ دینے کے لئے مدینہ میں رہنا ضروری ہے اس لئے اجازت دیجئے کہ عمر بھی یہیں رہیں چنانچہ انہوں نے حضرت عمرؓ کو بھی مدینہ میں رہنے کی اجازت دے دی۔گلے پس حضرت ابو بکڑ نے اپنی خلافت کے ایام میں ایک غلام بچہ کو اتنی عظمت دی کہ اس کی سیادت اور حکومت کا حق اپنی خلافت کے وقت میں بھی تسلیم کیا اور ایک آدمی بھی بغیر اجازت لشکر سے پیچھے نہیں رہا۔مساوات کے قیام کے لئے اسلام کا دوسرا اہم حکم مساوات کے قیام کے لئے اسلام کا دوسرا حکم جس پر تمام صحابہ اور تمام مسلمان بھی شدت سے عمل کرتے رہے ہیں یہ ہے کہ اسلام نے مجرم کی سزا میں چھوٹے بڑے کا کوئی فرق نہیں رکھا۔اسلام کے نزدیک مجرم خواہ بڑا ہو یا چھوٹا بہر حال وہ تعزیر کا مستحق ہوتا ہے اور اس میں کسی قسم کے امتیاز کو روا نہیں رکھا جاتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک دفعہ ایک عورت نے جو کسی بڑے خاندان سے تعلق رکھتی تھی چوری کی اور معاملہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا، ساتھ ہی بعض لوگوں نے سفارش کر دی اور کہا کہ یہ بڑے خاندان کی عورت ہے اس کا ہاتھ نہ کاٹا جائے بلکہ معمولی تنبیہ کر دی جائے۔رسول کریم کا صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ سُنا تو آپ کے چہرہ پر غضب کے آثار ظاہر ہوئے اور آپ نے فرمایا خدا کی قسم ! اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرے تو میں اُس کا بھی ہاتھ کاٹ ڈالوں۔پھر