انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 521 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 521

۴۸ انوار العلوم جلد ۱۶ نظام تو سے نکال دینا چاہئے۔لیکن اگر شودر کسی برہمن سے قرض لے بیٹھتا ہے اور پھر ادا ئیگی کی طاقت نہیں رکھتا تو منو کے احکام کے مطابق اس کا فرض ہے کہ وہ اونچی ذات والوں کی نوکری کرے اور اس طرح قرض کو ادا کرے۔پھر یہیں تک بس نہیں بلکہ اس تعلیم کا اثر اور آگے چلتا ہے چنانچہ لکھا ہے کہ اگر کوئی شخصر جائے اور اس کی کئی بیویاں ہوں تو ایسی حالت میں :- ایک کی اولاد جو برہمنی سے ہے وہ اس کی جائداد کے تین حصہ لے اور جو کشترانی سے ہے اُس کی اولاد دو حصے لے اور جو ویشیا ہے اس کی اولا د ڈیڑھ حصہ لے اور شودرانی کی اولا د ایک حصہ لے ، اس تعلیم کے ماتحت مرنے والے کی جائداد میں سے برہمنی کی اولاد کو تین حصے، کھترانی کی اولاد کو دو حصے، ولیش کی اولاد کو ڈیڑھ حصہ اور شود رانی کی اولاد کو ایک حصہ ملے گا۔اب بتاؤ اس نظام کے ماتحت وہ ادنیٰ حالت سے اونچے کس طرح ہو سکتے ہیں۔پھر لکھا ہے کہ : - برہمن شودر سے دولت لے لے۔اس میں کوئی وچار نہ کرے کیونکہ و دولت جو اس نے جمع کی ہے وہ اس کی نہیں بلکہ برہمن کی ہے۔‘ کلا وہ اس تعلیم کے ماتحت برہمنوں کو اور زیادہ آسانی حاصل ہو گئی کیونکہ انہیں اس بات کی اجازت دے دی گئی ہے کہ شودروں کے پاس جب بھی تمہیں دولت نظر آئے فورا گوٹ لو اور کوئی و چار یعنی فکر نہ کرو کہ اس کوٹ سے گناہ ہوگا کیونکہ شودر کا مال اس کا نہیں بلکہ تمہارا ہے جب بھی تم کسی شودر کے پاس مال و دولت دیکھو فورا گوٹ لو اور اپنے قبضہ میں کر لو۔یہ وہ تعلیم ہے جو ہندو مذہب پیش کرتا ہے اور چونکہ ہندو مذہب میں سوائے برہمنوں ، کھتریوں اور ویشوں کے سب کو شو در سمجھا جاتا ہے اس لئے جس قدر سید مغل اور پٹھان وغیرہ ہیں سب ہندوؤں کے نزدیک شودر ہیں اور ان سب کے متعلق برہمنوں کو اختیار دے دیا گیا ہے کہ وہ ان کی دولت کو ٹوٹ لیں۔اگر کوئی شخص روپیہ کمائے اور برہمن اس سے وہ روپیہ لوٹ لے تو اس کا کوئی حق نہیں کہ عدالت میں دعویٰ دائر کرے اور اگر وہ عدالت میں دعویٰ دائر کرے گا تو منو کی اس تعلیم کے ماتحت اسے کہا جائے گا کہ تو جھوٹا ہے تیرا تو وہ مال تھا ہی نہیں وہ تو برہمن کا مال تھا۔گویا اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے کہتے ہیں کہ کوئی شخص کہیں سے گذر رہا تھا کہ اس نے دیکھا کہ لوگ ایک