انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 522 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 522

۴۹ انوار العلوم جلد ۱۶ نظام تو شخص کو چار پائی پر اٹھا کر اسے دفن کرنے کے لئے لے جا رہے ہیں اور چار پائی پر جو شخص ہے وہ شور مچا رہا ہے کہ خدا کے واسطے مجھے بچاؤ ، خدا کے واسطے مجھے بچاؤ۔لوگوں کے ہجوم کو دیکھ کر وہ بھی ٹھہر گیا اور کہنے لگا بات کیا ہے؟ انہوں نے کہا حج صاحب نے حکم دیا ہے کہ اس شخص کو دفن کر دیا جائے کیونکہ یہ مر چکا ہے۔وہ کہنے لگا یہ تو زندہ ہے اور شور مچا رہا ہے کہ مجھے بچایا جائے۔وہ کہنے لگے خواہ کچھ ہو جج صاحب کا یہی حکم ہے کہ یہ شخص مر چکا ہے اور اسے دفن کر دینا چاہئے۔سیاح نے کہا یہ بات میری سمجھ میں نہیں آئی۔جنازہ اُٹھانے والوں نے جواب دیا کہ آپ کی سمجھ میں آئے یا نہ آئے جو کچھ حج صاحب نے کہا وہی ٹھیک ہے یہ شخص یونہی جھوٹ بول رہا ہے اور کہتا ہے کہ میں مرا نہیں۔آخر وہ سیاح جج صاحب کے پاس گیا اور اسے جا کر کہا کہ میں نے آج ایک نظارہ دیکھا ہے اور میں اس پر حیران ہوں میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ایک زندہ شخص کو آپ نے مرا ہو ا کس طرح قرار دے دیا؟ حج نے جواب دیا تم تو بیوقوف ہو تمہیں حالات کا علم نہیں اگر علم سے کام لیتے تو اسے مرا ہو ا ہی سمجھتے۔اصل بات یہ ہے کہ ایک سال ہوا میرے پاس ایک عورت آئی اور اس نے کہا کہ میرا خاوند باہر گیا ہوا تھا اب میں نے سنا ہے کہ وہ مر گیا ہے مجھے اجازت دیجئے کہ میں کسی اور شخص سے شادی کرلوں۔میں نے کہا کہ گواہیاں لاؤ۔وہ دو معتبر گواہ میرے پاس لائی جنہوں نے قسم کھا کر کہا کہ انہوں نے فلاں سرائے میں اس کے خاوند کو مرتے ہوئے دیکھا تھا اور انہوں نے خود ہی اسے دفن کیا تھا۔چنانچہ اُس عورت کو شادی کی اجازت دے دی گئی۔اب کچھ عرصہ کے بعد یہ شخص آیا اور کہا کہ میں اس عورت کا خاوند ہوں اور زندہ ہوں وہ عورت مجھے دلوائی جائے۔میں نے اسے بہتیر اسمجھایا کہ تو اس عورت کا خاوند نہیں ہو سکتا وہ تو مر چکا ہے اور دو گواہیاں ہمارے پاس موجود ہیں مگر وہ یہی کہتا چلا گیا کہ نہیں میں تو زندہ ہوں۔آخر میں نے کہا میں اسے مان نہیں سکتا دو معتبر گواہ موجود ہیں جو کہہ رہے ہیں کہ اس عورت کا خاوندان کے سامنے مرا اور چونکہ ان گواہوں کے بیانات کے رو سے خاوند کا مرنا یقینی ہے اس لئے میں سوائے اس کے اور کچھ نہیں کر سکتا کہ اگر تیرا یہ دعوی سچا ہے کہ تو اس عورت کا خاوند ہے تو سرکاری خرچ پر تجھے دفن کر ا دوں۔چنانچہ اسی غرض کے لئے میں نے اپنے آدمیوں کو بھجوایا ہے تا کہ وہ اسے دفن کر دیں۔یہی حال ہندومت کا ہے کسی شخص کے پاس روپیہ جمع ہو برہمن اُس سے کوٹ لے اور وہ بیچارہ عدالت میں دعویٰ دائر کرے تو مجسٹریٹ کہے گا یہ بالکل جھوٹ بولتا ہے اس کے پاس روپیہ تھا کہاں وہ تو فلاں ادھیائے اور فلاں شلوک کے