انوارالعلوم (جلد 16) — Page 512
انوار العلوم جلد ۱۶ نظام تو نہیں چاہتا۔انصاف تو پھر بھی رہ جائے گا اور اِس طرح جو کچھ کیا جائیگا اس تحریک کی اصل روح کے خلاف کیا جائے گا۔کمیونزم کا چھٹا نقص یعنی قومی افتراق پہلے اس تحریک کے نتیجہ میں قوم کے کئی شروع ہو جائے گا۔ٹکڑے ہوجائیں گے اور امیروں کا قتل کمیونزم کا ساتواں نقص ساتویں بالشویک اصول میں ایک اور بڑی غلطی یہ ہے کہ اس کا زوال نہایت خطرناک ہوگا۔دوسری تحریکات میں تو یہ ہوتا ہے کہ ایک بادشاہ مرتا ہے تو اُس کی جگہ دوسرا بادشاہ تخت حکومت پر بیٹھ جاتا ہے ، ایک پارلیمنٹ ٹوٹتی ہے تو دوسری پارلیمنٹ بن جاتی ہے لیکن بالشویک تحریک میں اگر کبھی کمزوری آئی تو یہ یکدم تباہ ہوگی اور اس کی جگہ زار ہی آئے گا کوئی دوسری حکومت نہیں آئے گی کیونکہ اس میں نیابت کی کوئی صورت نہیں جیسے دوسری تحریکات میں ہوتی ہے۔وجہ یہ کہ قابلیت کو مٹا دیا گیا ہے اور جب قابلیت کو مٹا کر دماغ کو نیچا کر دیا جائے تو نتیجہ یہ ہوگا کہ جب تنزل ہوگا تو اُس وقت کوئی ایسا دماغ والا نہیں ہوگا جو اس تنزل کو دُور کر سکے۔پس جب یہ تحریک کرے گی گلی طور پر گرے گی جیسا کہ فرانس میں ہوا کہ جب فرانس کے باغیوں میں تنزل پیدا ہوا تو اُن کی جگہ نپولین جیسے کامل انا قتدار آدمی نے لی خود جمہور میں سے جمہوریت کا کوئی دلدادہ یہ جگہ نہ لے سکا۔نیشنلسٹ سوشلزم اور اس کے نقائص تیسری تحریک میشٹ سوشلزم کی ہے۔اس تحریک کا مقصد یہ ہے کہ غرباء کو کچھ حقوق تو ضرور دیئے جائیں لیکن فردی جو ہر کو بھی گچلا نہ جائے اور چونکہ اس تحریک کے حامی فردی جو ہر کو اپنی اقوام سے مخصوص سمجھتے ہیں اس لئے ان کی پالیسی یہ ہے کہ جرمن اور رومی اور ہسپانوی غریبوں کو تو اُبھارا جائے لیکن باقی اقوام کو دبا کر اُن کی دولت سے جرمن ، رومی اور ہسپانوی باشندوں کو مالا مال کیا جائے۔اب اس آخری تحریک میں جاپان بھی آکر شامل ہو گیا ہے۔اس تحریک کے اصولی نقائص یہ ہیں۔پہلا نقص اول یہ تحریک چند اقوام کی بہتری کے حق میں ہے ساری دُنیا کی بہتری کے حق میں نہیں ہے۔۳۹