انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 510 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 510

۳۷ انوار العلوم جلد ۱۶۔نظام تو وہ حاصل کرتے ہیں۔اگر چند مخصوص آدمی غیر ممالک کی سیر کے لئے جائیں تو وہ کبھی بھی معلومات حاصل نہیں کر سکتے جو مختلف ممالک اور مختلف اقوام کے لوگ غیر ممالک میں جا کر حاصل کر سکتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کے دماغ میں مختلف قسم کی قابلیتیں رکھی ہیں۔کسی بات میں چینی دماغ اچھا کام کرتا ہے، کسی بات میں جاپانی دماغ اچھا کام کرتا ہے، کسی بات میں ایرانی دماغ اچھا کام کرتا ہے، کسی بات میں فرانسیسی دماغ اچھا کام کرتا ہے اور کسی بات میں ہندوستانی دماغ اچھا کام کرتا ہے۔ڈھاکہ کی ململ بڑی مشہور تھی جو یہاں کے جولا ہے تیار کیا کرتے تھے۔انگریزوں نے بڑی بڑی مشینیں نکالیں اور اچھے سے اچھے کپڑے تیار کئے مگر ڈھاکہ کی ململ وہ اب تک نہیں بنا سکے۔اسی طرح مصری لوگ ممی بنانے میں بڑے مشہور تھے۔اب بظاہر انگریز اور فرانسیسی علم میں بہت بڑھے ہوئے ہیں مگر سارا زور لگانے کے باوجود وہ اب تک ویسا مصالحہ تیار نہیں کر سکے جو مصری تیار کیا کرتے تھے۔میں نے خود ممی کی ہوئی لاشیں دیکھی ہیں ایسی تازہ معلوم ہوتی ہیں گویا ابھی انہوں نے دم تو ڑا ہے حالانکہ انہیں فوت ہوئے کئی کئی ہزار سال گزر چکے ہیں یہاں تک کہ اُن کے جسم کی چکنائی تک صاف نظر آتی ہے اس کے مقابلہ میں اب جو لاشوں کی حفاظت کے لئے مصالحہ لگایا جاتا ہے وہ تھوڑے عرصہ میں ہی خراب ہو جاتا ہے۔اب دیکھو یہ مصریوں کے دماغ کی ایک ایجاد تھی جس کا اب تک لوگ پتہ نہیں لگا سکے۔اسی طرح دہلی میں ایک حمام تھا جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اُس کے نیچے ایک دیا جلا کرتا تھا اور اُس دِیے کی وجہ سے وہ حمام ہمیشہ گرم رہتا۔کہتے ہیں جب دہلی میں انگریزوں کا تصرف بڑھا تو انہوں نے کہا ہم اسے تو ڑ کر دیکھنا چاہتے ہیں کہ یہ حمام کس طرح ایک دیے سے گرم ہوتا ہے چنانچہ انہوں نے اُسے تو ڑ دیا مگر پھر دوبارہ اُن سے ویسا نہیں بن سکا۔تو مختلف دماغ مختلف کاموں سے شغف رکھتے ہیں جب وہ آپس میں ملتے ہیں تو ایک کے دماغ کو دوسرے سے روشنی ملتی ہے اور اس طرح ذہنی اور علمی ترقی ہوتی رہتی ہے۔جب ہم کسی زمیندار کے پاس بیٹھتے اور اس سے باتیں کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اس کی کیا کیا خصوصیات ہیں، بڑھئی کے پاس بیٹھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اس بڑھئی کی کیا کیا خصوصیات ہیں اور اُن سے مل کر اور باتیں کر کے ہمیں کئی نئی باتیں معلوم ہوتی ہیں اور ہماری رُوح میں بھی زندگی پیدا ہوتی ہے۔اسی طرح جب ہم کشمیر یا یو۔پی میں چلے جاتے ہیں تو ہمیں نیا علم حاصل ہوتا ہے اسی لئے قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ سِيرُوا