انوارالعلوم (جلد 16) — Page 509
انوار العلوم جلد ۱۶ نظام تو درخت کو اُکھیڑ تا ہے تو مناسب ماحول میں اُکھیڑتا اور مناسب ماحول میں ہی دوسری جگہ لگاتا ہے اگر اس کا خیال نہ رکھا جائے تو وہ درخت کبھی پھل نہیں لا سکتا۔اس تحریک میں چونکہ اس اصل کو مد نظر نہیں رکھا گیا اس لئے نتیجہ یہ ہوا کہ پرانے اُمراء بھاگ بھاگ کر دوسرے ملکوں میں چلے گئے اور وہاں کے رہنے والوں کو روس کے خلاف اکسانے لگ گئے۔کبھی امریکہ کو کبھی انگلستان کو اور کبھی فرانس کو تاکہ وہ اِن ملکوں کو اُکسا کر روس کے خلاف کھڑا کر دیں اور اس طرح اگر وہ خود تباہ ہوئے ہیں تو روس بھی تباہ ہو جائے۔کمیونزم کا تیسرا نقص یعنی مذہب کی مخالفت اور اس کا نتیجہ میرے انہوں نے مذہب کی مخالفت کر کے سب مذہبی دُنیا کو اپنا مخالف بنا لیا ہے۔یہ لازمی بات ہے کہ جو لوگ مذہب سے محبت رکھنے والے ہونگے وہ اس تحریک کے کبھی حامی اور مؤید نہیں ہوں گے۔کمیونزم کا چوتھا نقص یعنی ملک میں ڈکٹیٹری کی ترویج چوتھے انہوں نے ڈکٹیٹری کے لئے رستہ کھولا ہے۔۔بے شک یہ لوگ اصولاً اقتدار عوام کے حامی ہیں مگر جیسا کہ میں ابھی بتا چکا ہوں وہ شروع میں ہی یہ اقتدار عوام الناس کو سونپنے کے لئے تیار نہیں بلکہ کہتے ہیں ابتداء میں ڈکٹیٹر شپ ضروری چیز ہے مگر اس کی کوئی حد مقرر نہیں۔لینن کے بعد سٹالن ڈکٹیٹر بن گیا ، سٹالن کے بعد مولوٹوف بن جائے گا پھر کسی اور ٹوف کی باری آ جائے گی۔اس طرح یہ تحریک عملی رنگ میں ڈکٹیٹری کے لئے راستہ کھولنے والی ہے۔کمیونزم کا پانچواں نقص یعنی علم کے راستہ میں رکاوٹ پانچواں اس تحریک کا ایک لازمی نتیجہ علم کے راستہ میں رُکاوٹ کا پیدا ہونا ہے۔اس رنگ میں بھی کہ جب ہر شخص کو پندرہ پندرہ یا بہیں ہیں رو پے ملیں تو علمی ترقی کی تڑپ اُس کے دل میں نہیں رہ سکتی اور وہ سمجھ لیتا ہے کہ خواہ میں تھوڑا علم حاصل کروں یا بہت جب مجھے معاوضہ میرے گزارہ کے مطابق مل جائے گا تو میں زیادہ علم کیوں حاصل کروں۔اور اس رنگ میں بھی کہ دماغی اور علمی ترقی کے لئے دوسرے ملکوں میں جانا اور ان کے حالات کا دیکھنا ضروری ہوتا ہے اور تاریخ بتاتی ہے کہ وہی قو میں دُنیا میں ترقی کیا کرتی ہیں جن کے افراد کثرت سے غیر ملکوں میں جاتے اور وہاں سے مفید معلومات سم