انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 501 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 501

انوار العلوم جلد ۱۶ نظام تو نتیجہ یہ نکلا کہ وہ مرگئی اور آئندہ سونے کا انڈہ ملنا بند ہو گیا۔یہی بات جرمنی اور اٹلی کی حکومتوں نے اپنی رعایا کے کانوں میں ڈالی کہ اگر اُمراء کو ایک دفعہ لُوٹ لیا اور پھر انہیں کمانے کا موقع نہ دیا تو وہ غریب ہو جائیں گے اور اُن کی ٹوٹ میں تم ایک دفعہ ہی حصہ لے سکو گے لیکن اگر تم ایک دفعہ لوٹ لو اور پھر انہیں کمانے کی اجازت دے دو اور جب کچھ عرصہ کما چکیں تو پھر ٹوٹ لو تو اس طرح بار بار اُن کے مال تمہارے قبضہ میں آتے چلے جائیں گے۔پس انہوں نے کہا کہ ان بڑے بڑے تاجروں کو مال کمانے دو جب یہ مال کما کر لائیں گے تو وہ تمہیں دے دیئے جائیں گے۔دوسرے انہوں نے اپنے ملک بالشوزم کے خلاف پروپیگنڈے کا دوسرا ذریعہ کے لوگوں کو یہ بتایا کہ بالشوزم امپیریلزم کی مخالف ہے اور چاہتی ہے کہ غیر ملکیوں کی حکومت نہ ہو مگر حالت یہ ہے کہ انگریزوں نے ایک مدت تک ملکوں پر حکومت کر کے دُنیا کے اموال خوب جمع کر لئے ہیں یہی حال امریکہ اور فرانس کا ہے کہ وہ دُنیا کی سیاست اور اقتصاد پر قبضہ جمائے بیٹھے ہیں مگر جب ہماری باری آئی ہے تو اب یہ دلیلیں دی جاتی ہیں کہ اس کا یہ نقصان ہے وہ نقصان ہے ہم ان دلیلوں کو نہیں مانتے۔ہم بھی انکی طرح غیر ملکوں پر قبضہ کریں گے اور ان کے اموال لا کر اپنے ملک کے غرباء میں تقسیم کریں گے۔غریبوں کو یہ بات طبعاً بہت اچھی لگی اور انہوں نے بھی آخر اس تحریک کی تائید کرنی شروع کر دی۔بالشوزم کے خلاف پروپیگنڈے کا تیسرا ذریعہ پھرانہوں نے اپنے ملک کے لوگوں کو بتایا کہ بالشویک تحریک خود بخود زور نہیں پکڑ رہی بلکہ دراصل امریکہ، فرانس اور انگلستان والے اس کی مدد کر رہے ہیں تا کہ جرمنی اور اٹلی والے ان کی دولت میں حصہ دار نہ بن سکیں۔اس سے ملک میں بالشوزم کے خلاف اور بھی جوش پیدا ہو گیا۔بالشوزم کے خلاف پروپیگنڈے کا چوتھا ذریعہ پھر انہوں نے اپنے ملک کے لوگوں کو ایک اور بات بتائی اور کہا دیکھو! اگر آج ہم اپنے ملک کے امیروں کو لوٹ لیں گے تب بھی ہمارا اقتصادی معیار زیادہ بلند نہیں ہوگا کیونکہ ہمارا ملک پہلے ہی غریب ہے اور اس کے پاس دولت بہت کم ہے اور ۲۸