انوارالعلوم (جلد 16) — Page 497
انوار العلوم جلد ۱۶ نظام تو کہاں سے؟ تو وہ کہہ دیتے ہیں روٹی کپڑا ہم دیں گے تمہیں اس کا کیا فکر ہے تمہیں فصل وہی بونی پڑے گی جس کا ہم تمہیں حکم دیتے ہیں۔اس طرح زمیندار کی حیثیت وہاں ایک مزدور کی سی ہوگئی ہے۔پانچویں اُصول کا نتیجہ یعنی مذہبی نظام میں دخل پانچویں اصول کے مطابق انہوں نے مذہبی نظام میں دخل دیا اور پادریوں وغیرہ کو بغیر ہاتھ کی مزدوری کے روزی کا مستحق قرار نہ دیا۔انہوں نے کہا کہ جب پادری کوئی ہاتھ کا کام نہیں کرتے تو یہ نکتے ہوئے اور سکتے لوگوں کو روزی نہیں دی جاسکتی پس وہ انہیں مجبور کر کے یا تو اور کاموں پر لگاتے ہیں اور یا پادری وغیرہ تھوڑا سا وقت عبادات میں گزار لیتے ہیں اور باقی وقت کسی کام میں بسر کر دیتے ہیں۔دہریت پیدا کرنے کی تدبیر اسی مذہبی دشمنی کے سلسلہ میں انہوں نے ایک اور نئی تجویز نکالی اور مذہب کے متعلق انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ مذہب انفرادی آزادی کا نتیجہ ہونا چاہئے۔ماں باپ اور بزرگوں کو بچپن میں مذہبی تعلیم دینے کا کوئی حق نہیں تعلیم گئی طور پر حکومت کے ہاتھ میں ہونی چاہئے۔وہ کہتے ہیں دیکھو! بچوں پر یہ کیسا ظلم کیا جاتا ہے کہ بچپن میں ہی ان کے دلوں پر مذہب کا اثر ڈالا جاتا ہے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جو مسلمان ہوتے ہیں اُن کے بچے مسلمان بن جاتے ہیں، جو ہندو ہوتے ہیں ان کے بچے ہندو بن جاتے ہیں اور جو پارسی ہوتے ہیں اُن کے بچے پارسی بن جاتے ہیں ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہئے بلکہ بچوں کو ہر قسم کے مذہبی اثرات سے آزاد رکھنا چاہئے۔جب بچہ جوان ہو جائے تو وہ جو چاہے مذہب اختیار کرلے جوانی سے پہلے ہی زبر دستی اس کے دل پر اپنے مذہب کا اثر ڈالنا صریح ظلم ہے چنانچہ اس اصل کا نتیجہ مذہب کے حق میں زہر نکلا۔وہ چھوٹے چھوٹے بچوں کو اُن کے ماں باپ سے جدا کر لیتے ہیں اور اپنے سکولوں میں تعلیم دلاتے ہیں جہاں مذہب کا نام تک بچہ کے کانوں میں نہیں پڑتا۔جب وہ اٹھارہ بیس سال کی عمر کو پہنچ جاتا ہے اور پکا دہر یہ بن جاتا ہے تو کہتے ہیں اب یہ جوان ہو گیا ہے اور اب اس کے سمجھنے کا زمانہ آ گیا ہے اب یہ جو چاہے مذہب اختیار کر لے حالانکہ اُس وقت اُس نے کیا سمجھنا ہے اُس وقت تو دہریت اُس کی رگ رگ میں سرایت کر چکی ہوتی ہے۔غرض وہ کہتے ہیں ہم بچوں پر ظلم نہیں کرتے بلکہ ان کی سختی صاف رکھتے ہیں تاکہ بعد میں اس پر جو نقش چاہیں مثبت