انوارالعلوم (جلد 16) — Page 482
انوار العلوم جلد ۱۶ نظام کو تغیرات ہو رہے ہیں۔ان تغیرات کا مستقبل پر کیا اثر پڑنے والا ہے اور ہماری جماعت اور دوسری مسلمان جماعتوں پر اُن کا کیا اثر ہے اور یہ کہ اگر وہ اثرات بُرے ہیں تو ہمیں اُن سے کس طرح بچنا چاہئے اور اگر اچھے ہیں تو کس حد تک ان کو قبول کرنا مناسب ہے۔موجودہ زمانہ کے امراء اور غرباء کے سب سے پہلے تو میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ دُنیا میں ادنیٰ و اعلیٰ ، محروم و با نصیب اور حاجتمند آپس کے امتیازات اور ان کا نتیجہ اور غنی میں جو امتیاز نظر آ رہا ہے اس کی وجہ سے دو تغیر پیدا ہورہے ہیں۔ایک تغیر تو یہ پیدا ہو رہا ہے کہ یہ امتیاز زیادہ نمایاں ہوتا جا رہا ہے اور دوسرا تغیر یہ پیدا ہو رہا ہے کہ اس تغیر کا احساس دُنیا میں بڑھتا جا رہا ہے۔پہلے بھی امیر ہوتے تھے مگر پہلے امیروں اور آجکل کے امیروں میں بہت بڑا فرق ہے۔پہلے زمانہ کے جو امراء ہوتے تھے اور جن کی اولاد کا اب بھی کچھ بقیہ پہاڑی علاقوں میں پایا جاتا ہے اُن کی یہ حالت تھی کہ ان کے پاس کثرت سے روپیہ اور غلہ اور دوسری جنسیں آتی تھیں اور وہ بھی کثرت کے ساتھ ان اشیاء کو لوگوں میں تقسیم کر دیا کرتے تھے۔پنجاب کے ایک رئیس ایک دفعہ لاہور میں بیمار ہوئے میں بھی اتفاق سے کسی کام کے لئے لاہور جا نکلا وہاں مجھے معلوم ہوا کہ ایک ایک وقت میں بعض دفعہ ان کے علاقہ سے تین تین چار چار سو آدمی اُن کی تیمار داری کے لئے آتے ہیں اور آنے والوں میں سے کسی کے پاس دُنبہ ہوتا ہے، کسی کے پاس چاول ہوتے ہیں، کسی کے پاس گڑھ ہوتا ہے، کسی کے پاس کوئی چیز ہوتی ہے محض اس لئے کہ سردار صاحب بیمار ہیں خالی ہاتھ کس طرح جائیں۔انہوں نے بھی دس پندرہ باورچی رکھے ہوتے تھے جب جانور وغیرہ آتے تو وہ ان کو ذبح کروا دیتے اور دیگیں پکوا کر لوگوں کو کھلا دیتے۔اس طرح ان کی بیماری کی وجہ سے اچھا خاصا مجمع دو تین مہینے تک لگا رہا اور برابر وہ ان سینکڑوں لوگوں کو کھا نا کھلاتے رہے۔گزشتہ زمانہ کے مقابلہ میں پس بے شک پہلے زمانہ میں بھی مالدار ہوتے تھے مگر اُن کا مال اس رنگ میں تقسیم ہوتا تھا کہ لوگوں کو بُرا نہیں لگتا تھا۔موجودہ زمانہ کے اُمراء اور پھر اُس زمانہ میں نوکر کا مفہوم بالکل اور تھا مگر آج کچھ اُن کے ملازمین کی حالت اور ہے۔اُس زمانہ میں نوکر خاندان کا جز و سمجھے جاتے تھے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض قسم کے امتیازات اُس وقت بھی پائے جاتے تھے مثلاً نوکر سے